اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس جہانگیری ڈگری کیس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی بینچ ٹوٹ گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم حسین سومرو نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی مبینہ جعلی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر کیس کی سماعت سے معذرت کرلی، جس کے نتیجے میں بینچ ٹوٹ گیا اور کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردی گئی۔
پیپلز پارٹی و مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم حیدر کے خلاف عدم اعتماد تحریک لانے کا اعلان

آج کی سماعت میں اسلام آباد بار ایسوسی ایشن (IBA) کی جانب سے فریق بننے کی متفرق درخواست مقرر تھی۔
اپنی درخواست میں بار نے مؤقف اپنایا کہ زیرِ التوا آئینی درخواست کی منصفانہ اور شفاف سماعت بار کو فریق بنائے بغیر ممکن نہیں کیونکہ کیس میں اٹھائے گئے مسائل قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ بار کے مقاصد میں عدلیہ کا دفاع، آئینی حکمرانی اور شہری آزادیوں کا تحفظ شامل ہے، جبکہ تنظیم تاریخی طور پر آئینی جدوجہد میں پیش پیش رہی ہے۔

کیس کا پس منظر:
جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق تنازع جولائی 2023 میں اُس وقت سامنے آیا جب سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف شکایت دائر کی گئی۔
بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی تقرری کو چیلنج کیا گیا، جس کے بعد 16 ستمبر کو چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے انہیں کام سے روکنے کا حکم دیا۔

19 ستمبر کو جسٹس جہانگیری نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور استدعا کی کہ انہیں بطور جج کام سے روکنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے ان کی ڈگری منسوخی سے متعلق 7 درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ وکلا کی خواہشات کے مطابق سماعت نہیں چلائی جا سکتی اور بار بار غیرحاضری کے باعث درخواستیں مسترد کی گئیں۔

عدالت کے تحریری حکم میں کہا گیا کہ جسٹس جہانگیری کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، مگر وہ بعد ازاں عدالت سے چلے گئے، جس پر ان کی درخواست بھی عدم پیروی پر خارج کردی گئی۔

One thought on “اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس جہانگیری ڈگری کیس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی بینچ ٹوٹ گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!