وفاقی اتحادی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مشترکہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم حیدر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں گی۔ دونوں فریقوں کے درمیان مشاورت کے بعد مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ وہ تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت کرے گی مگر مرکز کی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی اور اپوزیشن میں رہے گی؛ اسی فیصلے کو پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی قبول کیا۔
توشہ خانہ کی نئی فہرست جاری صدر وزیراعظم نائب وزیراعظم سمیت متعدد وفاقی وزراء کو قیمتی تحائف موصول
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما احسن اقبال نے اسلام آباد میں وزارتِ منصوبہ بندی میں پارٹی کی سیاسی رابطہ کمیٹی کی صدارت کی، جس میں وفاقی وزیرِ امورِ کشمیر امیر مقام اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ بھی شریک تھے۔ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر نے اپنی پارلیمانی جماعت کی قیادت کی۔
احسن اقبال نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں بڑی سیاسی اسٹیک ہولڈرز کا عدم اعتماد کی تحریک لانے پر اتفاق ایک جمہوری بلوغت کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک جماعت حکومت میں رہے گی تو دوسری جماعت اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی اور نئی حکومت جلد آزاد و منصفانہ انتخابات کرائے تاکہ ایک مستحکم انتظام قائم کیا جا سکے۔
احسن اقبال نے اعتراف کیا کہ ان کی جماعت سابقہ اتحادی حکومت میں اقلیتی شریک رہی مگر مسلسل ناکام کارکردگی کے باعث انہوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب امیر مقام نے کہا کہ جو معاہدات جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے پائے تھے، وہ کسی بھی حکومت کے لیے قابلِ عمل ہوں گے اور مسلم لیگ (ن) کا اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں کرے گا۔
گزشتہ روز احسن اقبال کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے وفد نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے امکانات پر مشاورت بھی کی۔ دونوں جماعتوں نے وزیراعظم پر استعفے یا اسمبلی میں اعتماد کھونے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں کل 52 اراکین ہیں اور سادہ اکثریت کے لیے 27 ووٹ درکار ہیں۔ پیپلز پارٹی کے 27 ارکان اور مسلم لیگ (ن) کے 9 ارکان کی حمایت سے یہ اکثریت باآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں وزیراعظم کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ باعزت مستعفی ہو جائے کیونکہ ان کے پاس اکثریت برقرار نہیں رہی۔ اُن کے سامنے تین آپشن ہیں: اسمبلی تحلیل کر دینا، خود مستعفی ہونا، یا عدم اعتماد تحریک کا سامنا کرنا۔
