یروشلم/ہنگری (مانیٹرنگ ڈیسک) — اسرائیل نے واضح کردیا ہے کہ وہ امریکی منصوبے کے تحت غزہ میں ترک افواج کی موجودگی کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
شاہ عبداللہ کی آرمی چیف سے ملاقات، پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار
ہنگری میں پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈیون سار نے کہا کہ جو ممالک غزہ میں بین الاقوامی فورس کے تحت اپنی افواج بھیجنے کے خواہاں ہیں، انہیں کم از کم اسرائیل کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں اسرائیل مخالف رویہ اختیار کیا گیا ہے، لہٰذا “ہم ان کی مسلح افواج کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہے، اور ہم نے اپنے امریکی دوستوں کو اس بارے میں صاف طور پر آگاہ کردیا ہے۔”
گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ میں کن غیر ملکی افواج کو داخل ہونے کی اجازت دی جائے، یہ فیصلہ صرف اسرائیل کرے گا۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اپنے حالیہ اسرائیل و غزہ کے دورے کے دوران کہا کہ “غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس ان ممالک پر مشتمل ہونی چاہیے جن پر اسرائیل کو اطمینان ہو۔”
خبر ایجنسیوں کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ میں امریکی فوجی تعینات کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکی اور آذربائیجان سے اس حوالے سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ بین الاقوامی فورس کا حصہ بن سکیں۔
ادھر اسرائیلی اخبار "ٹائمز آف اسرائیل” نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں امن و استحکام کے لیے بننے والی اس فورس میں پاکستانی فوجی دستے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اخبار کے مطابق اسرائیلی دفاعی حکام نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا ہے کہ انڈونیشیا، آذربائیجان اور پاکستان کے فوجی ممکنہ طور پر اس فورس میں شامل ہوں گے۔
البتہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق یا عوامی بیان سامنے نہیں آیا۔
گزشتہ روز وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا تھا کہ “غزہ میں پاکستانی افواج کی ممکنہ تعیناتی سے متعلق سوال کا جواب وزارتِ خارجہ دے گی۔”
