کراچی (اسٹاف رپورٹر) سیکرٹری محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ اسد اللہ ابڑو نے کہا ہے کہ ہم ایسے مستقبل کو قبول نہیں کر سکتے جہاں ہمارے بچے تعلیم اور بچپن سے محروم ہوں۔ حکومت سندھ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور سندھ پروبیشن آف ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2017 کے مؤثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔
ملیر کینٹ پولیس کی کامیاب کارروائی، عادی موٹرسائیکل چور گرفتار
یہ بات انہوں نے محکمہ محنت و افرادی قوت سندھ اور یونیسیف کے اشتراک سے ہونے والے سندھ چائلڈ لیبر سروے (SCLS) 2023-24 کے باضابطہ آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں یونیسیف کی چیف آف چائلڈ پروٹیکشن جینیفر میلٹن، ڈی جی لیبر ذوالفقار علی نظامانی، یونیسیف کے نمائندے پریم بہادر چند، پروجیکٹ کوآرڈینیٹر ریجھو مل ایس سجنانی، اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔
سروے کے مطابق سندھ میں 5 سے 17 سال کی عمر کے 10.3 فیصد بچے چائلڈ لیبر میں مصروف ہیں۔ 1996 کے سروے میں یہ شرح 20.6 فیصد تھی، یعنی چائلڈ لیبر میں تقریباً 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ پیش رفت بہتر قانون سازی، مؤثر نفاذ اور بچوں کے تحفظ کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق 13.7 فیصد لڑکے اور 6.6 فیصد لڑکیاں چائلڈ لیبر سے وابستہ ہیں۔ سب سے زیادہ شرح ڈسٹرکٹ سجاول (35.1%) اور تھرپارکر (25.6%) میں پائی گئی، جب کہ سب سے کم شرح کراچی ملیر (2.7%) اور کراچی جنوبی (3.0%) میں ریکارڈ کی گئی۔
مزید بتایا گیا کہ 10 سے 17 سال کی عمر کے 50.4 فیصد بچے خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں، 29.8 فیصد بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ 17.5 فیصد کو کام کی جگہ پر بدسلوکی کا سامنا ہوتا ہے۔
کام کرنے والے بچوں میں سے صرف 41.2 فیصد اسکول جاتے ہیں جبکہ غیر کام کرنے والے بچوں میں اسکول حاضری کی شرح 69.9 فیصد ہے۔
چائلڈ لیبر کی سب سے زیادہ شرح زراعت کے شعبے (65.1%) میں ہے، اس کے بعد مینوفیکچرنگ (12.4%) اور تھوک/خوردہ تجارت (10.8%) میں بچوں سے مزدوری لی جاتی ہے۔
سروے کے مطابق غربت اس رجحان کی سب سے بڑی وجہ ہے — غریب ترین گھرانوں کے 33.7 فیصد بچے مزدوری کرتے ہیں جبکہ امیر گھرانوں میں یہ شرح صرف 3.8 فیصد ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جینیفر میلٹن نے کہا کہ ہر بچہ سیکھنے، کھیلنے اور مواقع سے بھرپور بچپن کا حق دار ہے، نہ کہ مشقت کا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سروے ہمیں پالیسی سازی اور عملی اقدامات کے لیے قیمتی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔
ڈی جی لیبر ذوالفقار نظامانی نے کہا کہ یونیسیف کے اشتراک سے یہ تاریخی سروے سندھ میں بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔
