وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا اعلان: "بھارت سے درآمد ہونے والی ویکسین اب پاکستان میں تیار ہوگی”

کراچی (اسٹاف رپورٹر) — وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان جلد ہی اپنی تمام ویکسین خود تیار کرے گا، بھارت سے درآمد کی جانے والی ویکسین اب ملک میں ہی بنائی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا صنعتوں اور کسانوں کے لیے بجلی ریلیف پیکج کا اعلان

انہوں نے یہ بات 22ویں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو کراچی ایکسپو سینٹر میں ایس آئی ایف سی کے تعاون سے منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سندھ کے وزیرِ صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو سمیت مختلف ممالک کے قونصل جنرلز بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ماضی میں "جنگ کے بعد دشمن ملک نے ادویات کی فراہمی بند کر دی تھی، جسے ہم نے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا،” اور اب پاکستان میں وہ تمام ویکسین تیار ہوں گی جو پہلے بھارت سے منگوائی جاتی تھیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ "پاکستان سالانہ 500 ملین ڈالر کی ویکسین درآمد کرتا ہے، لیکن اب یہ تمام ویکسین ملک میں ہی تیار کی جائیں گی،” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں ابھی بھی پولیو موجود ہے، اور اگر سب اپنا کردار ادا کریں تو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

وزیر صحت نے بتایا کہ فارماسیوٹیکل انڈسٹری آئندہ برسوں میں پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنے گی، حکومت کا ہدف ادویات اور طبی آلات کی ایکسپورٹ کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے ہر دوا پر بار کوڈ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے اور اگلے 60 دنوں میں جعلی ادویات کے خاتمے کی امید ہے۔

ہیلتھ انشورنس کے حوالے سے وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ "210 ارب روپے سے پاکستان کے ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس دی جا سکتی ہے،” جس سے اگلے دس سالوں میں سرکاری اسپتالوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں ہر سال 22 ہزار ڈاکٹر تیار ہوتے ہیں، جب کہ دنیا کو 25 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے،” اس لیے نرسنگ کونسل کو ازسرِ نو منظم کیا جا رہا ہے۔

ویکسین سے متعلق عوامی خدشات پر بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ "ویکسین آبادی کم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے۔” انہوں نے کہا کہ سروائیکل کینسر کی ویکسین دنیا کے 150 ممالک میں لگائی جا رہی ہے، لیکن پاکستان میں 20 سال بعد اس ویکسین کے آنے پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔

آخر میں وزیر صحت نے کہا کہ "پاکستان میں علاج کی تمام سہولتیں موجود ہیں سوائے اعضا کی پیوند کاری کے،” اور زور دیا کہ "احتیاط علاج سے بہتر ہے، ہمیں بیماریوں سے بچاؤ پر توجہ دینی ہوگی۔”

WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.10 PM WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.11 PM WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.12 PM WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.13 PM WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.14 PM WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.15 PM WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.15 PM 1 WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.16 PM WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.17 PM WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.17 PM 1 WhatsApp Image 2025 10 23 at 6.03.18 PM

57 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!