شاہ لطیف ٹاؤن کے رہائشیوں نے علاقے میں پُراسرار لینڈ گریبرز اور بھتہ خور مافیا کی بڑھتی ہوئی بدمعاشیوں کے خلاف سخت احتجاج اور سندھ حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ شہریوں نے موقف اپنایا کہ گزشتہ پندرہ سال سے ان کے پلاٹس پر غیر قانونی قابضین نے قبضے قائم کیے ہوئے ہیں اور عدالتی فیصلوں کے باوجود ان قبضوں کو ختم نہیں کیا گیا۔
سیپرا بورڈ کا 45واں اجلاس سرکاری معاہدوں میں شفافیت یقینی بنانے پر زور
رہائشیوں نے بتایا کہ قبضوں کا سلسلہ 2009 میں شروع ہوا جب سیکٹر 30 کے بعض پلاٹس پر قبضہ کر کے انہیں "در محمد گوٹھ” کا نام دے دیا گیا۔ متاثرہ شہری عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہے اور ہائی کورٹ و سپریم کورٹ نے متعدد بار ان جعلی بستیوں کو بوغُس قرار دے کر خالی کروانے کے احکامات جاری کیے، مگر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
رہائشیوں نے انکشاف کیا کہ قابضین حکومتی عناصر کی پشت پناہی سے پہلے سے زیادہ متحرک ہیں اور جو لوگ بھتہ دینے سے انکار کرتے ہیں انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اگر کوئی مالک اپنے پلاٹ پر تعمیراتی کام کرتا ہے تو رات کے اندھیرے میں اس کی تعمیرات کو مسمار کیا جاتا ہے اور مسلح افراد تعینات کر دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مورخہ 21 ستمبر 2025 کو شہری سرفراز آرائیں نے کمرشل پلاٹس 5758-SC سیکٹر B-30 پر تعمیرات شروع کیں تو انہیں 10 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ اور قتل کی دھمکی دی گئی۔
شاہ لطیف ٹاؤن کے رہائشیوں نے سندھ حکومت، ڈائریکٹر جنرل MDA، ڈپٹی کمشنر ملیر، ایس ایس پی ملیر اور انکروچمنٹ پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:
علاقے میں موجود لینڈ گریبرز اور بھتہ خور مافیا کے خلاف فوری، موثر اور باقاعدہ کارروائی کی جائے۔
عدالتی احکامات کے مطابق تمام غیر قانونی قبضے فوراً ختم کرائے جائیں اور کمرشل و رہائشی پلاٹس مالکان کے حوالے کیے جائیں۔
شہریوں کی جان، مال اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
رہائشیوں نے کہا کہ وہ مافیا کی بڑھتی بدمعاشیوں سے تنگ آ چکے ہیں اور اگر حکومت نے فوری عملی اقدامات نہ کیے تو علاقے میں بڑے تصادم کا خطرہ موجود ہے — اس کے تمام نتیجہ خیز ذمہ داریاں سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوں گی۔

