نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندرا دویدی نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ رواں سال مئی میں ہونے والی جھڑپوں نے بھارتی فوج کو کئی نئے سبق دیے ہیں۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق جنرل دویدی نے کہا کہ 7 سے 10 مئی کے درمیان پاک بھارت لڑائی میں دو ایٹمی قوتوں کے درمیان سخت مقابلے کا ماحول تھا، جس میں کئی اہم پہلو سامنے آئے۔
پنجاب میں کرائم کنٹرول اور صفائی کے بڑے اقدامات، مخالفین جل رہے ہیں: مریم نواز
انہوں نے کہا کہ صرف یوکرین کی جنگ ہی سیکھنے کے لیے اہم نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ حالیہ معرکہ آرائی بھی فوجی حکمت عملی کے اعتبار سے سبق آموز ہے۔ بھارتی فوجی سربراہ کے مطابق آپریشن سندور کے دوران بھارت نے مشترکہ کارروائیوں، ملٹی ڈومین آپریشنز، گائیڈڈ اور خودکار ہتھیاروں کے استعمال اور عملے کے ساتھ یا بغیر چلنے والے نظاموں سے متعلق اہم تجربات حاصل کیے۔
جنرل دویدی نے کہا کہ اب بھارت "نیو نارمل” کے تحت پاکستان سے متعلق اپنے اصول و ضوابط کے مطابق ہی آگے بڑھے گا۔
پاکستانی ہتھیاروں کے موثر استعمال پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستانی چینی ساختہ J-10C طیاروں اور PL-15 میزائلوں کو غیر موثر پایا۔ تاہم عالمی میڈیا میں اب بھی آپریشن سندور کے دوران بھارتی فضائیہ کو پہنچنے والے نقصان پر بحث جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس لڑائی کے دوران پاکستان کے جدید فضائی ہتھیاروں نے بھارتی فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچایا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد بار اپنے بیانات میں پاک فضائیہ کے ہاتھوں بھارتی طیاروں کی تباہی کا ذکر کر چکے ہیں۔
