لاہور (اسٹاف رپورٹر) وزیراطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف وہ سیز فائر اور مفاہمت کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ہر گھنٹے بعد زبان سے ہوائی فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔ "شعلے اگلتی زبانوں کے ساتھ ہم سے سیز فائر کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا۔
بھارتی آرمی چیف کا اعتراف: پاکستان سے حالیہ لڑائی نے ہمیں بہت کچھ سکھایا
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ روزانہ کوئی نہ کوئی رہنما مائیک کے سامنے بیٹھ کر گالیاں اور الزامات کی بارش کر دیتا ہے، لیکن جب ہم معمولی سا جواب دیتے ہیں تو وہ رونے بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل سیاسی بلوغت کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیں جمہوریت کے لیکچر نہ دے کیونکہ "جمہوریت کا بوجھ ہماری قیادت اور کارکنوں نے برسوں اٹھایا ہے، ان کے نازک کندھوں نے نہیں۔”
وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ اگر ہماری قیادت پر دن رات حملے ہوں گے تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ سندھ کسی وڈیرے کی جاگیر نہیں کہ اسے ہر فورم پر "سندھو دیش” کہا جائے۔ پنجاب کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کو بند کرنا ہوگا۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پنجاب نے ہمیشہ وفاق کو مضبوط کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں پنجاب پر ایک ہی دن میں 34 مرتبہ حملے کیے گئے جن میں 25 سے زیادہ بیانات سندھ سے آئے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی پر پوری توانائیاں صرف کر رہی ہے۔ 26 ستمبر سے نقصانات کا جامع سروے شروع ہوچکا ہے جو 26 اکتوبر تک مکمل ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز 17 اکتوبر کو بحالی فنڈز کی پہلی تقسیم خود کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے عملی تعاون کی کوئی مثال پیش نہیں کی، اس کے باوجود پنجاب پر بے جا مداخلت اور الزام تراشی کی جا رہی ہے۔ "اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ہم بھی مناسب جواب دینے پر مجبور ہوں گے۔”
