پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی سنگین غفلت سامنے آگئی، جہاں گزشتہ دو برسوں کے دوران 20 سے زائد یونیورسٹیوں سے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کی رجسٹریشن کے لیے درکار 8 لاکھ روپے فی کورس کمپری ہینسو انسپیکشن فیس (سی آئی ایف) وصول ہی نہیں کی گئی۔ اس غفلت کے باعث قومی خزانے کو 20 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
پاکستانی وفد کی آئی ایم ایف کو قرض پروگرام پر مکمل عمل درآمد کی یقین دہانی
دستاویزات کے مطابق یہ معاملہ اگست 2025 میں اس وقت سامنے آیا جب کراچی کی ایک یونیورسٹی نے 20 پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کی رجسٹریشن کے لیے درخواست دی۔ ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر حبیب اللہ نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی نے کسی بھی پروگرام کے لیے سی آئی ایف جمع نہیں کرائی۔ بعدازاں انکشاف ہوا کہ پی ایم ڈی سی نے ماضی میں بھی کسی ادارے سے یہ فیس وصول ہی نہیں کی تھی۔
پی ایم ڈی سی پوسٹ گریجویٹ ریگولیشنز 2023 کے تحت یونیورسٹیوں کو فی کورس 3 لاکھ روپے سیکریٹریٹ چارجز، 8 لاکھ روپے سی آئی ایف، ایک لاکھ روپے درخواست فیس اور 1.5 لاکھ روپے انسپکٹر چارجز ادا کرنے ہوتے ہیں۔ تاہم حکام کے مطابق صرف سی آئی ایف وصول نہ کی گئی، جب کہ دیگر فیسیں باقاعدگی سے جمع ہوئیں۔
ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ 3 مختلف رجسٹرارز کے دور میں اس اہم فیس کی عدم وصولی تشویش ناک ہے، اور اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
پی ایم ڈی سی کے ایک اور سینئر اہلکار نے کہا کہ یہ معاملہ نظرانداز ہوگیا تھا لیکن اب اس پر غور کیا جا رہا ہے، اور جلد تمام واجبات یونیورسٹیوں سے وصول کر کے کونسل کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے جائیں گے۔
معاملہ مزید کارروائی کے لیے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کمیٹی (پی ایم ای سی) کو بھجوایا گیا ہے۔
