خلیجی خبر رساں ایجنسی گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق دبئی حکومت نے ویزا ضوابط میں اہم ترامیم کرتے ہوئے چار نئی وزٹ ویزا کیٹگریز متعارف کروا دی ہیں، جو مصنوعی ذہانت، تفریح، ایونٹس، کروز شپ اور لیژر بوٹس کے ماہرین کے لیے مخصوص ہیں۔
پی ایم ڈی سی میں 20 کروڑ روپے کی فیس غفلت سے وصول نہ ہوسکی معاملہ پی ایم ای سی کو بھجوایا گیا
سرکاری ضوابط کے تحت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک سالہ رہائشی پرمٹ جاری کیا جائے گا جسے مخصوص شرائط پر اتھارٹی کے فیصلے سے توسیع کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح غیر ملکی بیوہ یا مطلقہ کو بھی ایک سال کے لیے رہائشی پرمٹ دیا جا سکے گا اور مقررہ شرائط کے تحت اسے دوبارہ تجدید کیا جا سکے گا۔
نئے ضوابط میں دوست یا رشتہ دار کے وزٹ ویزا کے معاملے میں اسپانسر کو تیسرے درجے تک کے دوست/رشتہ دار اسپانسر کرنے کی اجازت مل گئی ہے، البتہ یہ سہولت اسپانسر کی آمدنی کی بنیاد پر ہوگی۔ بزنس ایکسپلوریشن ویزا کے لیے درخواست گزار کا مالی طور پر مستحکم ہونا لازم ہوگا تاکہ وہ متحدہ عرب امارات میں کمپنی قائم کر سکے یا بیرونِ ملک کسی کمپنی میں شراکت داری ثابت کر سکے۔
ٹرک ڈرائیور ویزا کے لیے اسپانسر کی موجودگی کے علاوہ امیدوار کو صحت اور مالی ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ ہر ویزا کی نوعیت کے مطابق مجاز قیام کی مدت اور توسیع کی شرائط واضح شیڈولز میں متعین کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ مارچ میں دبئی نے ملک بدری اور سفری پابندیوں سے متعلق قوانین میں بھی نیا قانون نمبر 1، 2025 کے ذریعے اصلاحات کی تھیں، جس کا مقصد ملک بدری اور سفری پابندی کے نفاذ کو شفاف اور متحد طریقے سے یقینی بنانا تھا۔ نئے ضوابط میں ’حل اور منسوخی شق‘ بھی شامل کی گئی ہے تاکہ پچھلے متصادم قواعد خود بخود منسوخ ہوجائیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات ویزا نظام کو مزید شفاف، لچکدار اور بین الاقوامی کاروبار، ہنر اور انسانی ضروریات کے مطابق بنانے کے لیے ہیں۔
