ٹرمپ اور نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس ملاقات غزہ امن منصوبہ زیر غور

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان اہم گفتگو کے بعد غزہ کی مستقبل کی حکمرانی کے حوالے سے پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ایف بی آر ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی

امریکی صحافی باراک راویڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر بتایا کہ حماس نے تاحال اس تجویز پر اتفاق نہیں کیا۔ اس سے قبل ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ پیر کے روز نیتن یاہو سے ملاقات میں غزہ امن منصوبے کو حتمی شکل دے سکیں گے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوگی، جو اس سال دونوں رہنماؤں کے درمیان چوتھی ملاقات ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب غزہ اسرائیل کی دو سالہ جنگ سے تباہ حال ہے اور "جنگ کے بعد کے دن” کے نام سے پیش کردہ 21 نکاتی منصوبہ زیر بحث ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی سربراہی میں "غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی (جی آئی ٹی اے)” کے قیام پر مبنی ہے، جو حماس کے خاتمے کے بعد کئی برس تک غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ اس اتھارٹی میں بین الاقوامی سفارتکاروں، کاروباری شخصیات اور محدود سطح پر فلسطینی نمائندوں کو شامل کیا جائے گا۔

تاہم اسرائیلی حکومت کے انتہاپسند وزراء، جن میں وزیر خزانہ اسموٹریچ اور وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر شامل ہیں، اس منصوبے کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک حماس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، کسی منصوبے پر عملدرآمد ممکن نہیں۔

اسرائیلی سیاست پر بھی اس منصوبے کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، کیوں کہ نیتن یاہو کی حکومت پہلے ہی اقلیتی حیثیت میں 120 میں سے صرف 60 نشستوں پر کھڑی ہے۔ اگر اتحادی جماعتیں علیحدگی اختیار کر لیں تو ان کی حکومت گر سکتی ہے۔

منصوبے کے مطابق جی آئی ٹی اے کے لیے پہلے سال کا انتظامی بجٹ 90 ملین ڈالر، دوسرے سال کے لیے 133 ملین ڈالر اور تیسرے سال کے لیے 164 ملین ڈالر رکھا گیا ہے۔ اس میں تعمیر نو اور انسانی امداد شامل نہیں۔

فی الحال یہ تجویز عبوری مرحلے میں ہے اور اقوام متحدہ کی منظوری کے باوجود اس پر عملدرآمد ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہوگا۔

One thought on “ٹرمپ اور نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس ملاقات غزہ امن منصوبہ زیر غور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!