کراچی (اسٹاف رپورٹر) — آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں شعبہ تفتیش میں جاری تنظیم نو کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی، آپریشنز، ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز، کرائم اینڈ انوسٹیگیشنز، ساؤتھ، ایسٹ، آئی ٹی، انوسٹیگیشن کراچی سمیت اے آئی جیز نے شرکت کی۔
کراچی: ضلع جنوبی پولیس کا نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے خصوصی آپریشن
اجلاس کے دوران ڈی آئی جیز ساؤتھ اور ایسٹ نے سینٹرل انوسٹیگیشن سینٹرز (CICs) کے قیام سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ بتایا گیا کہ ساؤتھ رینج میں 9 اور ایسٹ رینج میں 7 سینٹرلائزڈ انوسٹیگیشن سیلز قائم کیے جا رہے ہیں، جن کے لیے دفاتر اور عمارتیں فراہم کر دی گئی ہیں جبکہ دستاویزی مراحل تکمیل کے قریب ہیں۔
ڈی آئی جی کرائم اینڈ انوسٹیگیشنز نے شرکاء کو لیاقت آباد میں قائم پہلے سی آئی سی سے حاصل نتائج پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تفتیشی افسران کو ان کے تجربے اور مہارت کی بنیاد پر ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں تاکہ تفتیشی عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ سی آئی سیز کے قیام کے حوالے سے تمام ضروری دستاویزی امور کو جلد مکمل کیا جائے اور معزز عدلیہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو سی آئی سی کے قیام، اغراض و مقاصد اور طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایڈیشنل آئی جیز کراچی، آپریشنز، زونل ڈی آئی جیز اور انویسٹیگیشن کراچی سی آئی سی کے ٹی او آرز (TORs) تیار کریں۔
آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی کرائم اینڈ انوسٹیگیشنز کو ہدایت دی کہ لیاقت آباد سی آئی سی کے قیام کے بعد مختلف کیسز میں حاصل ہونے والے نتائج کی جامع رپورٹ مرتب کی جائے۔
