کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اگر سیدھے طریقے سے کوئی کام کرے تو اسے ہزاروں ڈالر کا انعام ملنا چاہیے۔
ملیر میں سوئی سدرن گیس کی بڑی کارروائی، چار ہزار گھروں کے غیر قانونی کنکشن منقطع
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اصل سلوگن ہے: "نہ خود کچھ کریں گے، نہ کسی کو کرنے دیں گے”۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا مطلب عوامی مفاد کے منصوبوں کو روک دینا نہیں ہوتا لیکن بدقسمتی سے تعمیراتی منصوبے بھی سیاست کی نذر ہو چکے ہیں۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ریڈ لائن میں پھنسی ہوئی ہے، ان سے کوئی منصوبہ وقت پر شروع ہوتا ہے نہ مکمل۔ کے فور منصوبہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے جس پر 2008 سے 2022 تک صرف وقت ضائع کیا گیا، 25 ارب روپے کا منصوبہ 150 ارب تک پہنچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ پوری یونیورسٹی روڈ کا حال سب کے سامنے ہے، پانی کی لائن ٹوٹنے پر سڑک جھیل بن گئی، کریم آباد انڈر پاس نااہلی کا شکار ہے، کورنگی کاز وے پر 2022 میں فلائی اوور کا وعدہ کیا گیا جو آج تک مکمل نہ ہو سکا۔ شاہراہ بھٹو بارشوں میں بہہ گئی اور ناتھا خان برج ہر 15 دن بعد ٹوٹ جاتا ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی دعویٰ کرتی ہے کہ کراچی کے نالے 40 ملی میٹر کی گنجائش رکھتے ہیں لیکن جب کچرا صاف نہیں ہوگا تو اوورفلو لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور شہری سندھ کے عوام کے سامنے ان کی کارکردگی کا پول کھل چکا ہے۔
فاروق ستار نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایمانداری سے بتائیں، اب کیا ان سے جان چھڑانی چاہیے یا نہیں؟ یہ عوام پر مسلط ایک عذاب ہیں جو کسی منصوبے کی تکمیل نہیں کر سکتے۔
