تل ابیب/دوحہ: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ قطر حماس کو مالی مدد اور پناہ فراہم کرتا ہے، اس لیے دوحہ پر حملہ جائز تھا۔ نیتن یاہو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ قطر حماس سے جڑا ہوا ہے، اسے اثرورسوخ حاصل ہے مگر اس نے اس کا مثبت استعمال نہیں کیا، اس لیے اسرائیل کا اقدام درست قرار دیا جا سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات، اعلیٰ سطحی وفد شریک
گذشتہ ہفتے اسرائیل نے متعدد جنگی طیاروں کے ساتھ قطری دارالحکومت دوحہ کے ہائی سیکورٹی زون میں واقع رہائشی علاقے پر حملہ کیا، جس میں رپورٹوں کے مطابق چھ افراد ہلاک ہوئے۔ حملے کا ہدف حماس کی اعلیٰ قیادت بتائی گئی لیکن بقول ذرائع اسرائیل حماس قیادت کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوا، جب کہ قطر طویل عرصہ سے ثالثی کا کردار ادا کرتا آیا ہے اور غزہ میں جنگ بندی و یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات کے لیے حماس قیادت کو میزبانی فراہم کرتا رہا ہے۔
قطر نے حملے کے ردِعمل میں عرب لیگ اور ادارۂ تعاونِ اسلامی (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس بلایا، جس میں قریباً 60 ممالک شریک ہوئے اور اعلامیہ میں اسرائیل کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ دوحہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں، تاہم قطر کے حماس کے ساتھ روابط اور ثالثی کے کردار نے واقعے کو علاقائی سطح پر کشیدگی میں تبدیل کر دیا ہے۔
اس دوران اسرائیلی ذرائع میں ‘قطر گیٹ’ کے طور پر سامنے آنے والے الزامات کے تحت نیتن یاہو کے دو قریبی ساتھیوں کے خلاف قطر سے رقوم وصول کرنے کی تحقیقات جاری ہیں؛ نیتن یاہو نے اس کیس کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ قابض فوج غزہ میں عسکری کارروائی بند نہیں کرے گی اور انہوں نے غزہ کے شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے اضافی گزرگاہیں کھولنے کی ہدایت بھی کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حماس شہریوں کو انخلا سے روک رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سات اکتوبر 2023 کے حملے سے حاصل اسباق کے پیشِ نظر "آزادانہ ہتھیار ساز صنعت” قائم کرنے کی ضرورت واضح ہوئی ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکہ کا دورہ کریں گے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ میں زمینی کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں اور شہر میں داخلہ کر کے صفائی مہم چلائی جا رہی ہے؛ فوجی حکام کے بقول شہر میں ہزاروں حماس جنگجو موجود ہو سکتے ہیں اور آپریشن مہینوں جاری رہ سکتا ہے۔ دوسری جانب مسلسل فضائی بمباری اور زمینی جھڑپوں کے باعث ہزاروں افراد نقلِ مکان کر چکے ہیں اور چند گھنٹوں میں رپورٹ شدہ ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں۔
