اسلام آباد — حکومت نے گندم کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے اور قیاس آرائی کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مارکیٹ کی سخت نگرانی کرتے ہوئے من مانی قیمتوں پر قابو پایا جائے۔
حکومت کا اربن فلڈنگ اور جنگلات کے کٹاؤ پر قابو پانے کے لیے نئی پالیسی بنانے کا فیصلہ
یہ ہدایت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جاری کی، جو قائمہ کمیٹی برائے افراطِ زر کے رجحانات کے جائزے کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ کمیٹی گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی تھی تاکہ غذائی اجناس کے ذخائر اور مہنگائی کے دباؤ کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذخائر اور سپلائی کی صورتحال
سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اسٹریٹجک ریزروز کے علاوہ بھی گندم کے مناسب ذخائر دستیاب ہیں اور گندم کی قلت کے دعوؤں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ چاول اور گنے کی فصل کو سیلاب سے پہنچنے والا نقصان قابلِ انتظام ہے۔
قیمتوں پر دباؤ اور خدشات
وفاقی دارالحکومت اور دیگر شہروں میں نان بائیوں نے خبردار کیا ہے کہ گندم کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث روٹی کی قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔ کئی شہروں میں پہلے ہی قیمتیں بڑھ چکی ہیں جس سے یومیہ اجرت کمانے والوں اور کم آمدنی والے گھرانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
حکومتی اقدامات اور کمیٹی کا کردار
وزیر خزانہ نے زور دیا کہ مارکیٹ میں ہیرا پھیری اور من مانی قیمتوں کو روکنے کے لیے سخت نگرانی ضروری ہے۔ کمیٹی نے پیاز، ٹماٹر، چاول، گندم، چینی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی غذائی اجناس کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں حساس قیمت انڈیکس (SPI)، سپلائی چین، ذخائر اور درآمدات کی صورتحال شامل تھی۔
کمیٹی نے آئندہ بونے کے موسم کی تیاریوں پر بھی زور دیا اور بیج و زرعی اجزا کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایت دی۔
بین الادارہ جاتی تعاون
محمد اورنگزیب نے این ڈی ایم اے، سپارکو اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس سمیت تمام اداروں کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون کی ہدایت کی تاکہ فصلوں کے نقصانات کا درست اور بروقت تخمینہ لگایا جا سکے۔
کمیٹی آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس کرے گی تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔
