اسلام آباد — حالیہ تباہ کن سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے اربن فلڈنگ اور جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ پر قابو پانے کے لیے نیا لائحہ عمل اور جامع پالیسی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو اس حوالے سے مرکزی کردار سونپا گیا ہے۔
کوئٹہ دھماکے کے خلاف بلوچستان بھر میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے حکام کے مطابق وزیراعظم نے وزارت کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر اربن فلڈنگ اور ڈی فورسٹییشن پر اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی صوبائی حکومتوں کو کلائمیٹ ریزیلینس ایکشن پلان کے اہداف تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ممکنہ ماحولیاتی خطرات سے نمٹا جا سکے۔
صوبوں کے ساتھ کوآرڈینیشن
حکام کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی کلائمیٹ ریزیلینس ایکشن پلان پر صوبوں کے ساتھ مشاورت اور کوآرڈینیشن کرے گی۔ صوبوں سے اربن فلڈنگ کو روکنے اور شہری علاقوں میں ڈرینیج سسٹم بہتر بنانے کے لیے تجاویز طلب کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ جنگلات کے کٹاؤ پر قابو پانے کے لیے مشترکہ پالیسی سازی پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
ممکنہ سیلابی خطرات کم کرنے کی حکمت عملی
وزارت موسمیاتی تبدیلی کی نئی پالیسی کے ذریعے شہری علاقوں میں نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور جنگلات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں مستقبل میں سیلابی خطرات اور ماحولیاتی تباہ کاریوں کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکے گا۔
