کوئٹہ / تربت / گوادر — بلوچستان میں اپوزیشن جماعتوں نے کوئٹہ کے شاہوانی اسٹیڈیم کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے کے خلاف صوبے بھر میں پریس کلبوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے۔ رہنماؤں نے اس حملے کو بلوچستان کی اصل سیاسی قیادت کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا۔
باجوڑ میں ٹارگٹڈ فوجی آپریشن، 11 علاقے کلیئر، ہزاروں خاندان گھروں کو واپس
جمعرات کو سات اپوزیشن جماعتوں کے کارکن اور حامی بڑی تعداد میں جماعتی پرچموں اور حکومت مخالف نعروں والے بینرز کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کی قیادت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال، بی این پی کے نائب صدر ساجد ترین، اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی، جماعت اسلامی کے نائب امیر زاہد اختر اور تحریک انصاف و مجلس وحدت المسلمین کے رہنماؤں نے کی۔
قیادت کے بیانات
عبدالرحیم زیارتوال نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے خطرہ ہیں لیکن اصل قیادت کو عوامی حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔
بی این پی کے ساجد ترین نے کہا کہ کارکن سردار عطا اللہ مینگل کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پرامن طور پر جمع ہوئے تھے، مگر ان پر خودکش حملے میں 15 کارکن شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام حکمرانوں کے رویے کو مسترد کر چکے ہیں۔
اے این پی کے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو منظم منصوبے کے تحت ان کے وسائل سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی اتحاد پر زور دیا اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت خواتین کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
جماعت اسلامی کے زاہد اختر نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے لانگ مارچ نے وفاقی حکومت کو ہلا دیا تھا اور آج بھی اپوزیشن اتحاد کے فیصلوں پر قائم ہے۔ تحریک انصاف اور ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں نے بھی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے دھماکے اور حکومتی پالیسیوں کی مذمت کی۔
دیگر شہروں میں مظاہرے
کوئٹہ کے ساتھ ساتھ تربت، گوادر، لورالائی، نوشکی اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی اسی نوعیت کے مظاہرے کیے گئے، جن میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
