باجوڑ میں ٹارگٹڈ فوجی آپریشن، 11 علاقے کلیئر، ہزاروں خاندان گھروں کو واپس

باجوڑ / پشاور — خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی مخالفت کے باوجود حکام نے واضح کیا ہے کہ باجوڑ میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر شدت پسندوں کو بروقت قابو نہ کیا جاتا تو پورے صوبے کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے تھے۔

لوئر دیر میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن، 7 ایف سی اہلکار شہید، 13 زخمی

سرکاری ذرائع کے مطابق باجوڑ قبائلی ضلع دیگر 9 اضلاع کے لیے ایک گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر شدت پسندوں کو بالائی علاقوں میں محدود نہ کیا جاتا تو وہ پورے صوبے پر قابض ہونے کی کوشش کر سکتے تھے۔ حکام کے مطابق اب تک 36 میں سے 11 علاقے کلیئر کر لیے گئے ہیں اور 3 ہزار سے زائد بے گھر خاندان اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔

اہلکاروں نے بتایا کہ ڈمہ ڈولہ اور کٹ کوٹ جیسے گنجان علاقے مشکل سمجھے جا رہے تھے، مگر شدت پسند وہاں سے پسپا ہو گئے ہیں اور فورسز کلیئرنس کے عمل میں مصروف ہیں۔ افغان سرحد سے قریب ڈمہ ڈولہ ماضی میں شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے، جہاں 2006 میں امریکی فضائی حملے میں کئی افراد مارے گئے تھے۔

عوام کی شمولیت اور مقامی معاہدہ

یہ پہلا موقع ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن مقامی آبادی کو شامل کرکے کیا گیا۔ عوام کو کہا گیا کہ شدت پسندوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کریں تاکہ ان کی جائیدادوں کو نقصان نہ ہو۔ 30 جولائی سے عمائدین کے ساتھ 14 روزہ مذاکرات ہوئے مگر شدت پسندوں نے علاقے سے نکلنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد مقامی رہائشیوں نے خود آپریشن کے لیے علاقے خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

مقامی جرگے نے تسلیم کیا کہ جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور فورسز کو رٹ قائم کرنے کا اختیار دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت متاثرین کو معاوضہ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔

بے گھر خاندانوں کی واپسی

اعداد و شمار کے مطابق 21 ہزار خاندان بے گھر ہوئے، جن میں سے 8200 سرکاری عمارتوں میں اور 12 ہزار 800 مقامی آبادی کے ساتھ مقیم رہے۔ حکام کے مطابق سب سے غیر معمولی کامیابی 21 اگست کو بے گھر ہونے والے ترکھو کے 6 دیہات کے لوگوں کی محض 5 دنوں میں واپسی تھی۔ بعد ازاں مزید 6 علاقے کلیئر کر کے وہاں کے رہائشیوں کو 8 ستمبر کو گھروں میں جانے کی اجازت دی گئی۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو بقیہ علاقے بھی جلد کلیئر کر لیے جائیں گے اور لوگ سردیوں سے قبل گھروں کو واپس جا سکیں گے۔ حکام پرامید ہیں کہ باجوڑ آپریشن دیگر عسکریت زدہ اضلاع کے لیے ایک ماڈل کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔

64 / 100 SEO Score

One thought on “باجوڑ میں ٹارگٹڈ فوجی آپریشن، 11 علاقے کلیئر، ہزاروں خاندان گھروں کو واپس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!