لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ بھاری اکثریت سے سینیٹر منتخب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اگر سینیٹ انتخابات کا بائیکاٹ کرنا تھا تو بیلٹ پیپر پر اپنے نام چھپوانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
پاکستان اور ترکیہ کا تجارتی و معاشی شراکت داری بڑھانے پر اتفاق
پنجاب اسمبلی کے میڈیا ہال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ رانا ثنا اللہ پر ماضی میں سزائے موت کے پرچے بنائے گئے، وہ پی ٹی آئی کے سیاسی انتقام کی زندہ مثال ہیں۔ آج (ن) لیگ کے لیے اعزاز ہے کہ انہیں سینیٹ میں بھیجنے کا موقع مل رہا ہے۔
گندم اور آٹے کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب صورتحال پر خود نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فلور ملز مالکان اور آڑھتیوں کو تین دن کی مہلت دی جا رہی ہے کہ اپنے اسٹاک رجسٹرڈ کریں ورنہ قانون حرکت میں آئے گا۔ صوبے میں گندم کی کوئی کمی نہیں لیکن بعض عناصر سیلاب جیسی آفات کو ناجائز منافع کمانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گندم تین ہزار روپے فی من اور روٹی 14 روپے مقرر ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ خانیوال میں گندم پانی میں ضائع ہونے کے واقعے پر ڈی جی فوڈ اور مقامی عملے کو معطل کردیا گیا ہے۔ گندم کا ایک ایک دانہ عوام کی امانت ہے، اسے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔
صحافی طیب بلوچ پر حملے کے حوالے سے انہوں نے پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت نہیں بلکہ "فساد پارٹی” ہے۔ طیب بلوچ یوٹیوبر ہیں، یو "ٹیومر” نہیں، اور ان پر حملہ پی ٹی آئی کے فاشسٹ رویے کا ثبوت ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ جو لوگ ملک سے باہر جا کر ڈالر کماتے اور ملک کے خلاف سازشیں کرتے ہیں وہ صحافی نہیں ہوسکتے۔ ان کے نزدیک صحافی وہی ہے جو ان کی زبان بولے اور خان کی تعریف کرے، مگر ملک میں "مائٹ از رائٹ” نہیں چلے گا۔
