جاپان کے وزیرِاعظم شیگرو اشیبا کا استعفیٰ دینے کا فیصلہ، نئی قیادت کے انتخاب کی راہ ہموار

ٹوکیو: جاپان کے وزیرِاعظم شیگرو اشیبا نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ ایوانِ بالا کے بدترین انتخابات کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اپنی اکثریت کھو بیٹھی۔

بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پنجاب اور سندھ میں سیلابی خطرات بڑھ گئے

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 68 سالہ شیگرو اشیبا نے ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل اقتدار سنبھالا تھا، تاہم انتخابات کے نتائج کے بعد ان کی اپنی جماعت کے اراکین اور رہنماؤں نے قیادت کی تبدیلی پر زور دینا شروع کر دیا۔

سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے نے رپورٹ کیا کہ اشیبا نے پارٹی میں مزید تقسیم سے بچنے کے لیے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا، جبکہ اساہی شمبن کے مطابق وہ استعفے کے بڑھتے دباؤ کو برداشت نہ کر سکے۔

ذرائع کے مطابق ہفتے کی شب زرعی امور کے وزیر اور ایک سابق وزیرِاعظم نے اشیبا سے ملاقات کی اور انہیں رضاکارانہ طور پر منصب چھوڑنے کا مشورہ دیا۔ اس سے قبل ایل ڈی پی کے چار سینئر رہنما، جن میں پارٹی کے نمبر دو ہیروشی موریاما بھی شامل تھے، اپنے استعفے پیش کر چکے ہیں۔

جولائی میں ایوانِ بالا کے انتخابات کے بعد پارٹی میں اشیبا کے مخالفین نے انتخابی ناکامی کی ذمہ داری ان پر ڈالتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ایل ڈی پی کے قانون ساز اور علاقائی نمائندے پیر کو باضابطہ طور پر نئی قیادت کے لیے درخواست جمع کروائیں گے۔ اگر مطلوبہ حمایت حاصل ہو گئی تو قیادت کے لیے نیا انتخاب کرایا جائے گا۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “جاپان کے وزیرِاعظم شیگرو اشیبا کا استعفیٰ دینے کا فیصلہ، نئی قیادت کے انتخاب کی راہ ہموار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!