لاہور/ملتان: بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو ہریکے اور فیروزپور کے مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا ہے۔
نوشہرہ: قبائلی رہنما کے گھر پر دستی بم حملہ، 5 افراد شدید زخمی
وزارت آبی وسائل نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے کا خطرہ ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں سے آبادیوں کی منتقلی سمیت تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
پنجاب میں 41 لاکھ افراد متاثر
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق صوبے کے 25 اضلاع کے 4 ہزار 100 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد 56 ہو گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ متاثرہ افراد کی کل تعداد 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد ہے۔ ان کے لیے 425 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جبکہ 500 میڈیکل کیمپوں میں اب تک ایک لاکھ 75 ہزار مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔
اب تک 20 لاکھ 73 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 15 لاکھ سے زائد مویشی بھی محفوظ مقامات پر پہنچا دیے گئے ہیں۔
ملتان کی صورتحال
ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حمید سندھو کے مطابق ہیڈ تریموں سے آنے والا ریلا 36 گھنٹوں میں ملتان پہنچنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیڈ محمدوالا اور شیرشاہ فلڈ بند پر دباؤ کم ہوا ہے، تاہم آنے والے پانی کے باعث سطح دوبارہ بلند ہو سکتی ہے۔
سندھ میں گڈو بیراج کو خطرہ
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ ہیڈ پنجند اگلے 24 گھنٹوں میں اپنی مکمل گنجائش (6 لاکھ کیوسک سے زائد) پر پہنچ سکتا ہے، جس کے بعد یہ پانی کوٹ مٹھن کے راستے دریائے سندھ میں شامل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تین دن کے اندر یہ پانی سندھ کے گڈو بیراج تک پہنچے گا، جہاں سطح 7 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے، جس سے سندھ کے نشیبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب آسکتا ہے۔
