کراچی، 4 ستمبر 2025 – وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی نے ریلویز کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کاریڈور اور مشرقی و مغربی وارو ریلوے ٹریک کی تجدید کے منصوبوں پر بریفنگ لی۔
کراچی میں 40ویں ٹریڈ ایکسپو انڈونیشیا کا سافٹ لانچ، 50 سے زائد پاکستانی بزنس لیڈرز کی شرکت
وفاقی وزیر کے اہم نکات
-
وزیر ریلویز نے چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل عتیق الرحمان عابد اور ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایل-1 منصوبے کی پنجاب حکومت منظوری دے چکی ہے اور اس کا افتتاح جون 2026 میں کراچی کینٹ اسٹیشن سے کیا جائے گا۔
-
انہوں نے کہا کہ مزار شریف تک ریلویز پہنچنے کی صورت میں پاکستان یورپ اور وسطی ایشیائی ممالک کو سروس مہیا کر سکے گا، جس کے لیے 10 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
-
ریکوڈک منصوبہ 2028 میں میچور ہوگا، جو ملکی معیشت کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
چیئرمین کے پی ٹی کی بریفنگ
-
چیئرمین کے پی ٹی نے کہا کہ کراچی پورٹ صرف 50 فیصد استعداد سے کارگو ہینڈل کر رہا ہے کیونکہ شہر کی سڑکیں اضافی ٹریفک برداشت نہیں کر سکتیں۔
-
ریلویز کے جدید نظام کے ذریعے ہی پورٹ مزید کارگو ہینڈل کرنے کے قابل ہوگا۔
-
ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کاریڈور کے پہلے فیز کو فائنل کر لیا گیا ہے، جبکہ دوسرے فیز کے لیے ریلویز سے این او سی درکار ہے۔
-
انہوں نے ماری پور کی 64 ایکڑ زمین کا معاملہ بھی اٹھایا، جو 1964 میں سرکلر ریلوے کے لیے دی گئی تھی مگر اب ریلویز کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، جسے کے پی ٹی ٹاسک فورس کے ذریعے واپس لینا چاہتا ہے۔
دورے کی سرگرمیاں
وفد نے کراچی گیٹ وے ٹرمینل اور ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز کا دورہ کیا اور فیری ہاربر کروز کے ذریعے پورٹ آپریشنز کا معائنہ کیا۔

