پنجاب حکومت کی گندم و آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی، مصنوعی بحران اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں نے ملک بھر میں مصنوعی آٹا بحران پیدا کرنے کا خدشہ پیدا کردیا ہے۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ سیکشن 144 کے تحت لگائی گئی یہ پابندیاں گندم اور متعلقہ مصنوعات کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ بن رہی ہیں، جس کے سبب آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ کو ناکامی قرار، لاگت میں اربوں کا اضافہ اور پیداوار میں ناکامی کا انکشاف

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) ساؤتھ زون نے الزام عائد کیا کہ یہ پابندیاں گندم کی ڈیریگولیشن پالیسی کے خلاف اور آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی ہیں، جو صوبوں کے مابین اشیا کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، اس طرح کی پابندیاں بالآخر پورے ملک میں بحران کا سبب بنیں گی۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالجنید عزیز نے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کو مکتوب میں مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس پابندی کو ختم کیا جائے تاکہ پنجاب میں موجود اربوں روپے مالیت کے گندم کے ذخائر ضائع ہونے سے بچ سکیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ سیلاب کے تناظر میں، گندم کی نقل و حرکت روکنے سے دیگر صوبوں کے صارفین کو سستا آٹا حاصل کرنے کا حق بھی محدود ہو رہا ہے۔

عزیز کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے پاس اس وقت وافر مقدار میں گندم موجود ہے، اور اس پابندی کا کوئی معقول جواز نہیں ہے۔ چوہدری عامر عبداللہ نے تجویز دی کہ یا تو بین الصوبائی نقل و حرکت پر فوری پابندی ہٹائی جائے یا پھر نجی شعبے کو 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ بحران سے بچا جا سکے۔

مل مالکان نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے مہینوں میں آٹے کی شدید قلت اور مہنگائی میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “پنجاب حکومت کی گندم و آٹے کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی، مصنوعی بحران اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!