آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ کو ناکامی قرار، لاگت میں اربوں کا اضافہ اور پیداوار میں ناکامی کا انکشاف

پاکستان کے سب سے اہم اور بڑے توانائی منصوبے، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ، آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی حالیہ رپورٹ میں ناکام قرار دیا گیا ہے۔ 507 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے اس منصوبے کو مقاصد، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لحاظ سے بری طرح ناکامی کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کے آبی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا، بلکہ توانائی پیدا کرنے کے اہداف بھی حاصل نہ کر سکا۔

اسلام آباد کی عدالت میں سامعہ حجاب اغوا کیس میں حسن زاہد کی ضمانت منظور

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرنگوں میں متعدد خرابیوں اور انہدام نے اس قومی اہمیت کے منصوبے کے معیار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سرنگ کے ہیڈ ریس حصے کے بڑے انہدام کو بھی رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا، جو گزشتہ سال پیش آیا اور اس کے باعث منصوبہ بند رہا۔ یہ تفصیلات واپڈا کی انتظامیہ کی جانب سے آڈٹ اعتراضات کے جواب کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق، منصوبہ شدید تاخیر کا شکار رہا، حالانکہ ٹنل بورنگ مشینیں فراہم کی گئیں، لیکن ڈیزائن میں بار بار تبدیلیاں اور بنیادی مسائل کی وجہ سے کام کی روانی متاثر رہی۔ نتیجتاً، منصوبہ اپنی توقعات کے مطابق بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہا اور دریائے نیلم پر آبی حقوق بھی محفوظ نہ کیے جا سکے۔

پہلا یونٹ 2018 میں فعال ہوا، لیکن باقی یونٹس کی تکمیل اور معاہدوں کی شرائط پوری کرنے میں بھی ناکامیاں سامنے آئیں۔ ٹنل ریس ٹنل کے انہدام کے بعد، مارچ 2023 تک پاور ہاؤس بند رہا، جس سے بجلی کی پیداوار کو بھاری نقصان پہنچا اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق، منصوبہ کل 8 سال کی تاخیر اور 419 ارب روپے سے زائد لاگت کے ساتھ مکمل ہوا، جو اصل تخمینہ 15 ارب 12 کروڑ روپے سے کئی گنا زیادہ ہے۔ لاگت میں 334 ارب روپے کا اضافہ ہوا، اور منصوبہ صرف 5,150 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کر سکا، جو اس کے مقاصد کے برعکس ہے۔

آڈیٹر جنرل نے واضح کیا کہ، وسائل کا موثر استعمال اور منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب، یہ منصوبہ نہ توانائی کے بحران کے حل میں مددگار ثابت ہوا اور نہ ہی پانی کے حقوق کا تحفظ کر سکا۔ اس کے علاوہ، مختلف مالی اور معاہداتی مسائل، ناقص منصوبہ بندی، اور ماحولیاتی نقصان بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیلم جہلم منصوبہ کے حوالے سے 70 ارب روپے کا ٹیرف بھی نیپرا سے منظور نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوا، جبکہ ٹنل کے انہدام سے 20 ارب سے زائد کا پیداواری نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ، غیر ضروری ادائیگیاں، انشورنس کلیمز، اور دیگر مالی بے ضابطگیاں بھی رپورٹ میں اجاگر کی گئی ہیں۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، یہ منصوبہ ہر لحاظ سے ناکام رہا، اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو مالی، توانائی اور ماحولیاتی سطح پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ، مستقبل میں ایسے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کو بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ کو ناکامی قرار، لاگت میں اربوں کا اضافہ اور پیداوار میں ناکامی کا انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!