گھوٹکی میں سیلابی خطرہ، 41 ریلیف کیمپس قائم اور متاثرین کے علاج معالجے کے خصوصی انتظامات

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر زراعت و فوکل پرسن لیفٹ بینک سردار محمد بخش مہر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ضلع گھوٹکی میں ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور متعلقہ محکمے ہائی الرٹ پر ہیں۔

کلفٹن پولیس کی کارروائی: اسٹریٹ کرمنل علی رضا گرفتار، اسلحہ برآمد

انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کی نگرانی میں گھوٹکی اور اوباوڑو کے 16 مقامات سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا پلان تیار ہے۔ اس مقصد کے لیے 41 ریلیف کیمپس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں سے 5 کیمپس فعال کر دیے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر کے مطابق، 13 میڈیکل کیمپس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2416 متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ لائیو اسٹاک کیمپوں میں 4452 مویشیوں کا علاج اور 20 ہزار 46 مویشیوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔

سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ قادرپور ہائی اسکول میں محکمہ بحالی کی 3 جدید موبائل اسپتالیں متاثرین کو سہولت فراہم کر رہی ہیں جبکہ پی پی ایچ آئی کی موبائل اسپتال بھی قادرپور شینک بند پر طبی خدمات فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قادرپور شینک بند کے حساس مقامات پر مرمتی کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ رینجرز اور پولیس دریائے سندھ کے بندوں پر پٹرولنگ کے ذریعے امن و امان برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ قائم کردہ ریلیف کیمپوں میں سیکیورٹی کے انتظامات بھی مکمل ہیں۔

53 / 100 SEO Score

One thought on “گھوٹکی میں سیلابی خطرہ، 41 ریلیف کیمپس قائم اور متاثرین کے علاج معالجے کے خصوصی انتظامات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!