ترجمان حکومت سندھ و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا ہے کہ رواں مون سون کے دوران دریائے سندھ میں 8 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ 9 لاکھ کیوسک سے زائد کے متوقع خدشات کے پیش نظر حکومت سندھ اور پی ڈی ایم اے سندھ نے تمام تر حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
کراچی: پولیو مہم کیلئے جامع سیکیورٹی پلان، دس ہزار سے زائد اہلکار تعینات
کمشنر آفس میں منعقدہ اجلاس میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں کمشنر سکھر عابد حسین قریشی، ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچر، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سید کمیل حیدر شاہ سمیت ضلعی انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ممکنہ سیلابی صورتحال کے باعث گڈو تا سکھر بیراج کے درمیان کچے کے علاقوں میں تقریباً 2 لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ متاثرہ افراد کے تحفظ کے لیے 155 ریلیف کیمپس قائم کیے جاچکے ہیں، جہاں میڈیکل کیمپس اور ویٹرنری کیمپس بھی شامل ہیں تاکہ انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔
مزید بتایا گیا کہ سیلابی ریلے سے 5 لاکھ مویشی اور ڈھائی لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر 820 میل طویل بندوں پر 3280 اہلکار 24 گھنٹے پہرہ دے رہے ہیں۔ کمزور حصوں کو مضبوط کرلیا گیا ہے جبکہ بھاری مشینری، ڈوزرز، ایکسکیویٹرز، ٹرالیاں، ڈی واٹرنگ پمپس اور بوٹس سمیت تمام تر ضروری سامان اور پتھروں کا ذخیرہ بھی حساس مقامات پر موجود ہے۔
سندھ بھر میں 616 دیہات اور 30 یونین کونسلز کو خطرے میں شمار کیا گیا ہے، جن میں گھوٹکی، کشمور، شکارپور اور سکھر سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ متحرک ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
