اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) پیٹرولیم انڈسٹری نے یکم ستمبر سے پیٹرول اور ڈیزل سمیت دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ورکنگ مکمل کرلی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے ٹیکسز میں اضافے کی صورت میں عوام ریلیف سے محروم رہ سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: قتل و فوجداری مقدمات کے لیے یک صفحہ پرفارما لازمی قرار
رپورٹ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بعد قیمت 272.99 روپے سے کم ہو کر 269.86 روپے فی لیٹر ہونے کا امکان ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں 61 پیسے کمی کے بعد 264.61 روپے سے کم ہو کر 264 روپے فی لیٹر مقرر ہونے کی توقع ہے۔
اسی طرح مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت ایک روپے 57 پیسے کمی کے بعد 178.27 روپے سے کم ہو کر 176.70 روپے اور لائٹ ڈیزل 2 روپے 61 پیسے کمی کے بعد 162.16 روپے سے کم ہو کر 159.55 روپے فی لیٹر ہونے کا امکان ہے۔
پیٹرولیم انڈسٹری کے مطابق ورکنگ میں ایکسچینج ریٹ اور حکومتی ٹیکسز شامل نہیں ہیں۔ اگر وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز بڑھائے تو قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ پائے گا۔
واضح رہے کہ اوگرا کل (31 اگست) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی سمری حکومت کو بھجوائے گا اور وزیراعظم کی حتمی منظوری کے بعد وزارت خزانہ نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی، جو یکم ستمبر سے 15 روز کے لیے نافذ العمل ہوگا۔
