سماعت کے دوران ملزم شاہ ریز خان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شاہ ریز خان 9 مئی کے واقعات میں لاہور میں موجود نہیں تھے بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ چترال میں تھے۔ وکیل نے اس حوالے سے دوستوں کے بیان حلفی بھی عدالت میں پیش کیے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ شاہ ریز خان پاکستان کے بہترین ایتھلیٹ ہیں اور انہیں صرف بانی پی ٹی آئی کا بھانجا ہونے کی وجہ سے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ انہیں مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔
دوسری جانب تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے ڈنڈا برآمد ہوا ہے اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ بھی کرا لیا گیا ہے۔ واقعے کی مزید تفتیش باقی ہے، لہٰذا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
بعدازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر شاہ ریز خان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔