کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت فلڈ ایمرجنسی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اور ڈویژنل کمشنرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گڈو بیراج پر سات سے آٹھ لاکھ کیوسک پانی پہنچنے کا امکان ہے۔
کراچی سے اغوا ہونے والا 2 سالہ بچہ اصغر علی نواب شاہ سے بازیاب، اغواکار فرار
وزیراعلیٰ سندھ نے انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ مکمل الرٹ رہیں اور سیلابی صورتحال کے لیے ریسکیو و ریلیف کی تیاری مکمل رکھیں۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ یکم ستمبر سے سندھ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی ہے جبکہ شمالی اضلاع میں 72 اور جنوبی اضلاع میں 106 ریسکیو بوٹس کا بندوبست کیا جا چکا ہے۔
اجلاس میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ سیلابی صورتحال کے باعث 52 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے شمالی اضلاع میں ریسکیو 1122 کے 30 ہزار سے زائد عملے کی تعیناتی کی ہدایت دی اور سکھر، گھوٹکی، خیرپور، شکارپور، لاڑکانہ، کشمور، شہید بینظیر آباد، نوشہروفیروز اور دادو میں ریسکیو بوٹس تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے۔
ترجمان کے مطابق پاک نیوی نے بھی اپنی 26 بوٹس تیار رکھنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ پی ڈی ایم اے نے وزیراعلیٰ کو ریلیف اسٹاک کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جس میں مچھر دانیاں، خیمے، کمبل، فرسٹ ایڈ کٹس، ڈی واٹرنگ پمپس اور جنریٹرز سمیت دیگر سامان شامل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے دریا کے کناروں پر 500 سے زائد کیمپس قائم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سیلابی ریلا آنے کی صورت میں انسانوں اور جانوروں کو کسی بھی حال میں نقصان نہیں ہونا چاہئے۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ اگر اونچے درجے کا سیلاب آیا تو 50 ہزار سے زیادہ خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال میں مکمل تیاری رکھنے کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی مشینری بھی استعمال کرنے کی ہدایت دی۔
