سوشل میڈیا پر جعلی معلومات پھیلانے کی سزا اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کو نئے اختیارات مل گئے

وزارت داخلہ کے مطابق اب سوشل میڈیا پر غلط اور جعلی معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کی جائے گی۔ ایسے افراد جو سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی معلومات سے پیسہ کماتے ہیں، وہ بھی اس قانون کی زد میں آئیں گے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ دربار کرتارپور کی بحالی کی یقین دہانی پاک فوج کے ریسکیو آپریشنز جاری

ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ان معاملات کی تحقیقات کرے گی۔ ایجنسی کو سائبر دہشت گردی، الیکٹرانک فراڈ، بچوں کے جنسی استحصال، چائلڈ پورنوگرافی اور آن لائن گرومنگ کے خلاف کارروائی کے خصوصی اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔

این سی سی آئی اے اب شناختی معلومات کے غیر مجاز استعمال، سم کارڈز کے غیر قانونی اجرا، اور بچوں کے اغوا، اسمگلنگ یا ٹریفکنگ میں انفارمیشن سسٹمز کے استعمال پر بھی سخت کارروائی کرسکے گی۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد سائبر کرائمز کی روک تھام اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے رواں سال اپریل میں پیکا ایکٹ کے تحت اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے قیام کی منظوری دی تھی۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ادارہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا) کی دفعہ 29 کے تحت قائم کیا گیا اور اس کا اطلاق 4 اپریل 2025 سے ہوا۔

واضح رہے کہ 4 اپریل کو این سی سی آئی اے کے پہلے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر وقارالدین سید کو تعینات کیا گیا، جو اس سے قبل ایف آئی اے کے سائبر کرائم سرکل کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔

One thought on “سوشل میڈیا پر جعلی معلومات پھیلانے کی سزا اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کو نئے اختیارات مل گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!