راولپنڈی (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور سیالکوٹ سیکٹر، شکرگڑھ، نارووال اور کرتارپور میں امدادی و ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر کور کمانڈر گوجرانوالہ نے ان کا استقبال کیا جبکہ انہیں موجودہ صورتحال اور آئندہ بارشوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ فیلڈ مارشل نے فوج اور سول انتظامیہ کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔
چیمپئنز لیگ کا ڈرا لیورپول اور مانچسٹر سٹی کا ریال میڈرڈ سے مقابلہ پی ایس جی کے مشکل حریف سامنے آگئے
دورے کے دوران آرمی چیف نے متاثرہ سکھ برادری سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ سیلاب سے متاثرہ تمام مذہبی مقامات، بشمول دربار صاحب کرتارپور کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں اور ان کے مذہبی مقامات کا تحفظ ریاست اور اداروں کی اولین ذمہ داری ہے اور پاکستان اس فریضے کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ سکھ برادری نے پاک فوج اور سول اداروں کی امدادی سرگرمیوں پر شکریہ ادا کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پنجاب میں پاک فوج کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔ فوج کی چھ ٹیمیں دریائے ستلج اور دریائے راوی پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جہاں متاثرہ عوام کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
قصور میں پاک فوج کے دستے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریلیف آپریشن میں سرگرم ہیں۔ پولیس، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، لائیو اسٹاک، ریسکیو 1122 اور شہری دفاع بھی امدادی کارروائیوں میں شامل ہیں۔ پاک فوج نے ضلع قصور میں 21 ریسکیو کیمپس قائم کیے ہیں جہاں اب تک 18 ہزار سے زائد افراد اور ان کے مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے جاچکے ہیں۔
منڈی احمد آباد میں پاک فوج کا مرکزی کیمپ قائم ہے جہاں متاثرہ خاندانوں کو پناہ اور سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گنڈا سنگھ والا اور اوکاڑہ کے سیلاب زدہ علاقوں میں بھی پاک فوج کے ریسکیو و ریلیف آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج سیلاب کی تباہ کاریوں کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
