غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے غزہ کے النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو حملے کیے، جس کے نتیجے میں رائٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری شہید ہوگئے جبکہ فوٹوگرافر حاتم شدید زخمی ہوئے۔
چین کے مجوزہ سپر ڈیم پر بھارت کے خدشات شدت اختیار کر گئے خطے میں پانی کو ہتھیار بننے کا خطرہ
عینی شاہدین کے مطابق دوسرا حملہ اس وقت کیا گیا جب امدادی کارکن، صحافی اور شہری ابتدائی حملے کے مقام پر پہنچے اور کوریج شروع کر رہے تھے۔ رائٹرز کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ حسام المصری کی جانب سے چلائی جانے والی لائیو فیڈ اچانک حملے کے چند لمحوں بعد بند ہوگئی۔
فلسطینی وزارت صحت نے مزید تین صحافیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جن میں اے پی کی مریم ابو دغہ، الجزیرہ کے محمد سلامہ اور امریکی ٹی وی این بی سی کے معاذ ابو طہہ شامل ہیں۔ شہید ہونے والوں میں ایک امدادی کارکن بھی شامل ہے۔
فلسطینی صحافیوں کی انجمن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں 240 سے زائد صحافی اپنی جان گنوا چکے ہیں۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے اسرائیل سے ہسپتالوں پر حملے فوری بند کرنے اور امدادی سامان کی ترسیل یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل شہریوں کو بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر کے نشانہ بنا رہا ہے اور دنیا کے سامنے کھلے عام جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں سے غزہ میں شہدا کی تعداد 62 ہزار 600 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 57 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
