غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ چین سرحدی دریا پر مجوزہ سپر ہائیڈرو پاور ڈیم کے ذریعے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ یہ دریا تبت کے آنگسی گلیشیئر سے نکل کر بھارت اور بنگلہ دیش تک 10 کروڑ سے زائد افراد کو سہارا دیتا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ رانا ثنااللہ کے گھر حملہ کیس میں 34 افراد بری 59 کو 10 10 سال قید کی سزا
رپورٹ کے مطابق چین نے دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ دریائے یارلونگ زانگبو پر دنیا کا سب سے بڑا ڈیم تعمیر کرے گا، جو اروناچل پردیش اور آسام سے گزرتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے۔ بھارتی تجزیے کے مطابق یہ ڈیم بیجنگ کو 40 ارب مکعب میٹر تک پانی موڑنے کی صلاحیت دے سکتا ہے، جو سرحد پر سالانہ بہاؤ کا تقریباً ایک تہائی بنتا ہے۔
یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت پہلے ہی اروناچل پردیش میں مقامی آبادی کی شدید مزاحمت کے باعث اپنے منصوبے روک چکا ہے۔ دیہاتی خوفزدہ ہیں کہ ایسے پراجیکٹس ان کے گاؤں ڈبو دیں گے اور طرزِ زندگی تباہ کر ڈالیں گے۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ چین کا منصوبہ خاص طور پر غیر مون سون مہینوں میں خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، جب بھارت کے کئی علاقے قحط زدہ ہوجاتے ہیں۔ تاہم، تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈیم بعض مواقع پر تباہ کن پانی کے ریلیز کو جذب کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
چین نے رائٹرز کو مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ہائیڈرو پاور منصوبے سخت تحقیق کے بعد تیار کیے گئے ہیں اور ان سے نیچے کے ممالک پر کوئی منفی اثر نہیں ہوگا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بیجنگ ہمیشہ سرحد پار دریاؤں کی ترقی پر ذمہ دارانہ رویہ اپناتا ہے اور بھارت و بنگلہ دیش کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
ادھر بھارتی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے 18 اگست کو اپنے چینی ہم منصب کے سامنے ڈیم سے متعلق خدشات اٹھائے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ شہریوں کی زندگیاں اور روزگار محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت پر خود بھی یہ الزام ہے کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں نئی دہلی پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا الزام لگایا تھا، تاہم ایک بین الاقوامی ٹربیونل نے بھارت کو معاہدے کی پاسداری کی ہدایت دی، جسے نئی دہلی مسترد کرتا ہے۔
