خاور حسین کیس: تحقیقاتی کمیشن سربراہ آزاد خان کا انکشاف، ملنے والے موبائل کا ڈیٹا ری سیٹ—فرانزک سے ریکوری کی کوشش

کراچی: صحافی خاور حسین کی پُراسرار موت کے معاملے پر تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ آزاد خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ خاور حسین کی گاڑی، موبائل فون اور پستول فرانزک کے لیے بھیج دیے گئے ہیں، جبکہ کراچی سے سانگھڑ تک ان کی موومنٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی سے صرف ایک موبائل فون ملا ہے جس کا ڈیٹا ری سیٹ تھا؛ فرانزک ماہرین ڈیٹا ریکور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شبہ ہے کہ خاور حسین کا دوسرا فون اہل خانہ کے پاس ہو سکتا ہے، جسے بھی تحویل میں لیا جائے گا۔

کراچی پولیس کی انسداد جرائم کارروائیاں، ایک ہفتے میں 730 ملزمان گرفتار، 5 ڈاکو ہلاک

آزاد خان کے مطابق خاور حسین کی تدفین کے بعد تحقیقاتی ٹیم اہل خانہ سے ملاقات کرے گی تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ واقعے کے ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور اس مرحلے پر حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ معاملہ قتل ہے یا خودکشی۔

اس سے قبل حیدرآباد کے سول اسپتال میں تین رکنی میڈیکل بورڈ نے خاور حسین کی لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم کے مطابق پانچ نمونے حاصل کیے گئے ہیں؛ حتمی رپورٹ نمونوں کے تجزیے کے بعد جاری کی جائے گی، جبکہ ابتدائی رپورٹ دو سے تین روز میں متوقع ہے۔ ڈاکٹر وسیم نے بتایا کہ خاور حسین کو ایک گولی لگی اور جسم پر اس کے علاوہ کوئی نشان نہیں ملا۔ قتل یا خودکشی کے بارے میں حتمی رائے دینا ابھی قبل از وقت ہے۔

One thought on “خاور حسین کیس: تحقیقاتی کمیشن سربراہ آزاد خان کا انکشاف، ملنے والے موبائل کا ڈیٹا ری سیٹ—فرانزک سے ریکوری کی کوشش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!