کراچی: ڈمپر نذر آتش واقعے کے بعد پولیس کی اندھا دھند گرفتاریاں، شہریوں میں اشتعال

کراچی (اسٹاف رپورٹر) راشد منہاس روڈ پر المناک ٹریفک حادثے اور ڈمپر کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے بعد کراچی پولیس نے بڑے پیمانے پر مبینہ طور پر اندھا دھند گرفتاریاں شروع کردی ہیں، جس سے شہریوں میں شدید اشتعال پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں، جسے شہری حلقے پولیس کی کارکردگی دکھانے اور ڈمپر ایسوسی ایشن کو خوش کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

25 اگست کے بعد صرف ٹریکر اور کیمرے والے ڈمپر سڑکوں پر چلیں گے، شرجیل میمن

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس گنتی پوری کرنے کے لیے بے گناہ افراد کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ فیڈرل بی ایریا بلاک 14 سے 16 اور اطراف کے علاقوں میں پولیس موبائلوں نے گشت کرتے ہوئے نوجوانوں کو بغیر کسی واضح ثبوت کے حراست میں لینا شروع کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس پارٹیوں نے موقع پر موجود ہر شخص کو حراست میں لینے کی کوشش کی۔

گرفتار ہونے والے متعدد نوجوانوں کو ڈسٹرکٹ سینٹرل کے مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں یوسف پلازہ، ایف بی انڈسٹریل ایریا اور گبول ٹاؤن پولیس کے تھانے شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہوٹلز، پارکس اور دیگر عوامی مقامات سے بھی کئی نوجوانوں کو اٹھایا گیا۔

اس صورتحال پر گرفتار افراد کے والدین اور رشتہ دار تھانوں کے باہر پہنچ گئے، تاہم پولیس نے دروازے بند کر دیے، جس سے شہریوں میں غصہ اور بے چینی مزید بڑھ گئی۔ شہری حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلاجواز گرفتاریوں کو فوری طور پر روکا جائے اور صرف ان افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جن کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہوں۔ پولیس کا موقف تاحال سامنے نہیں آیا۔

One thought on “کراچی: ڈمپر نذر آتش واقعے کے بعد پولیس کی اندھا دھند گرفتاریاں، شہریوں میں اشتعال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!