واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی جریدے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت محض اس خدشے کے باعث قبول نہیں کی کہ کہیں ان کی ملاقات پاکستان کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر سے نہ کرا دی جائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ، طلباء کے جوش و جذبے نے سماں باندھ دیا
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے مودی کو 17 جون کو عشائیے پر مدعو کیا تھا، تاہم مودی نے دعوت ٹھکرا دی۔ بلوم برگ کے مطابق مودی کو یہ خوف لاحق تھا کہ امریکی صدر ان کی جنرل عاصم منیر سے ملاقات نہ کرا دیں، اسی لیے انہوں نے شرکت سے انکار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق اسی روز مودی اور ٹرمپ کے درمیان 35 منٹ طویل ملاقات ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح کشیدگی پیدا ہوئی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ملاقات کے بعد ہی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو "مردہ” قرار دیا اور 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جو دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تناؤ کی وجہ بن گیا۔
بلوم برگ کا کہنا ہے کہ مودی کی یہ غیرمعمولی سفارتی چال ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی اعلیٰ قیادت پاکستان کے عسکری حلقوں کے اثر و رسوخ سے کس حد تک خائف ہے۔
