سکھر (کورٹ رپورٹر) — فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج سکھر کی عدالت نے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر 5، 5 سال قیدِ با مشقت اور فی کس 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
سیکیورٹی ڈویژن نے جولائی 2025 کے لیے “ایمپلائی آف دی منتھ” کا اعلان کر دیا
عدالتی فیصلے کے مطابق سزا پانے والے ملزمان میں قمر شہزاد، محمد ذیشان اور زبیر اصغر شامل ہیں، جنہیں ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل سکھر نے غیر قانونی کرنسی لین دین میں ملوث پایا اور مقدمہ درج کیا تھا۔
مقدمے کی تفتیش کے دوران ملزمان کے قبضے سے 10 لاکھ روپے پاکستانی کرنسی، 20 ہزار 700 امریکی ڈالر اور 1 لاکھ 47 ہزار سعودی ریال برآمد کیے گئے تھے۔ عدالت نے برآمد شدہ رقم بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق مقدمے کی پیروی اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل گیان پرکاش نے کی، جبکہ تفتیشی افسر سب انسپکٹر صدام حسین تھے جنہوں نے عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کیے، جن کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔
عدالت کے اس فیصلے کو غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی جیسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

