کراچی: مہاجر رہنما نے کہا ہے کہ اجرک کو زبردستی تھوپنے کی کوشش سندھ میں لسانی تقسیم کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا موقف نمبر پلیٹ کے حوالے سے سب کے سامنے ہے، اور میں پہلے بھی واضح کرچکا ہوں کہ پیپلز پارٹی لسانی سیاست کو فروغ دے کر سندھ کو تقسیم کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
نیب نے بحریہ ٹاؤن کی تین جائیدادیں نیلام کردیں، ملک ریاض نے آپریشن بند کرنے کا عندیہ دے دیا
انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پیپلز پارٹی مہاجروں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنتی، اور اجرک کو لازم کرنے کے بجائے عوام کو اس کا اختیار دیتی۔ مگر اس کے برعکس، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور دھمکی آمیز ویڈیوز کا سلسلہ شروع کردیا گیا، جس کے پیچھے سندھی علیحدگی پسند عناصر سرگرم ہیں، جنہیں پیپلز پارٹی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام سندھی عوام کا اس نفرت انگیزی سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ پیپلز پارٹی نے انہیں صرف غربت اور افلاس کے سوا کچھ نہیں دیا۔
مہاجر رہنما نے مزید کہا کہ میری تربیت مجھے گالی کا جواب گالی سے دینے کی اجازت نہیں دیتی، لیکن جب بار بار یہ طعنہ سننے کو ملتا ہے کہ "مہاجر لٹے پٹے آئے، ہماری زمینوں پر قبضہ کیا”، تو جواب دینا میری ذمہ داری بن جاتی ہے۔
انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد اس ملک کو سنبھالنے والا سرمایہ مہاجروں کا تھا۔ پی آئی اے، حبیب بینک، اور قائداعظم کو بلینک چیک دینے والے تمام اہم شخصیات مہاجر تھیں، جیسے مرزا احمد اصفہانی، سر آدم جی، محمد علی حبیب، اور محمد علی رنگون والا۔ ان شخصیات نے ملک کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مہاجر کبھی قلاش نہیں تھے، قلاش تو وہ تھے جنہوں نے بعد میں اقتدار پر قبضہ کرکے ملک کو لوٹا۔
انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھٹو نے "22 خاندان” کا نعرہ لگا کر مہاجر صنعت کاروں کو نشانہ بنایا، کیونکہ انہیں میرٹ پر شکست دینا ممکن نہیں تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سندھ کی تقسیم کا مطالبہ اگر ہماری زمین پر صوبہ بنانے کی بات ہے تو سندھی قوم پرستوں کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے؟ حمیدہ کھوڑو کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کی 60 فیصد زمین پر مہاجروں کا حق ہے، جبکہ سندھی مسلمان صرف 30 فیصد کے حق دار ہیں۔
جشنِ آزادی کی اپیل:
انہوں نے 14 اگست اور 15 اگست کے حساس ماحول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ 15 اگست کو چہلم بھی ہے، اس لیے اہل تشیع حضرات مجالس و جلوس کے دوران پاکستانی جھنڈا ساتھ رکھ کر ملک سے محبت کا مظاہرہ کریں، جبکہ باقی شہری گانوں اور شور شرابے سے اجتناب کریں۔
مطالبات:
اجرک والی نمبر پلیٹ کا نشان لازمی نہ ہو، بلکہ اسے اختیاری قرار دیا جائے۔
سندھ اسمبلی کو کوٹہ سسٹم کے خاتمے کیلئے بل پاس کرنا چاہیے تاکہ تمام بھرتیاں اور داخلے صرف میرٹ پر ہوں۔
2023 کی مردم شماری منسوخ کی جائے اور غیر ملکی مبصرین کی زیر نگرانی نئی مردم شماری کرائی جائے۔
کراچی پولیس میں تعینات اندرون سندھ سے آئے اہلکاروں کو واپس بھیجا جائے اور خالی پوسٹوں پر مقامی افراد کو تعینات کیا جائے۔
کراچی کے تھانوں میں غیر مقامی SHO کی جگہ مقامی SHO تعینات کیے جائیں۔
کراچی میں تعینات غیر مقامی ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور مختار کار تبدیل کیے جائیں۔
سندھ کے اسکولوں، اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کے ملازمین، جو پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے گھروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں واپس اداروں میں بھیجا جائے۔
