اسلام آباد / کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ملک میں گزشتہ 2 سے 3 سال کے دوران 2 ہزار ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف سامنے آیا ہے، جسے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن اسکینڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سنسنی خیز انکشاف معروف سینئر صحافی محمد مالک نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کے دوران کیا۔
تیموریہ میں ویٹر پر تشدد: ایس ایس پی سینٹرل کا نوٹس، شفاف انکوائری کا حکم
محمد مالک کے مطابق جون اور جولائی 2025 میں ہونے والی اہم میٹنگز میں انکشاف کیا گیا کہ اراکینِ پارلیمنٹ کو دیے گئے فنڈز میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی، جبکہ کچھ ریاستی اداروں کے افراد بھی اس کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے اس وقت 500 بڑے کیسز کی فہرست مرتب کر رہے ہیں تاکہ ابتدائی طور پر 500 ارب روپے کی ریکوری کی جا سکے۔
تحقیقاتی دائرہ وسیع
محمد مالک کا کہنا تھا کہ اس کرپشن اسکینڈل پر دو سے تین سطح پر کارروائی جاری ہے۔ معاملے پر فیٹف سیل بھی متحرک ہو چکا ہے اور ممکنہ 27ویں آئینی ترمیم سے قبل وسیع کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔
سینیٹ الیکشن اور ایس آئی ایف سی بھی تحقیقات کی زد میں
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں مالی بے ضابطگیوں سے متعلق انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور خفیہ اداروں کو تحقیقات کا ٹاسک دیا گیا ہے کہ یہ جان سکیں کہ "کتنے پیسے دائیں بائیں ہوئے”۔
اس کے ساتھ ساتھ ایس آئی ایف سی (Special Investment Facilitation Council) کے حوالے سے بھی سنجیدہ اسیسمنٹ کی جا رہی ہے، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ بیوروکریسی کا ایک حصہ جان بوجھ کر ایس آئی ایف سی کے منصوبوں کو ناکام بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ ایسے افسران کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
بڑے نام فہرستوں میں شامل
صحافی محمد مالک کے مطابق سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور بڑے ٹھیکیداروں کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں اور اس کریک ڈاؤن کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
