بحریہ ٹاؤن کرپشن کیس: 1 ارب 12 کروڑ کی منی لانڈرنگ کے ناقابلِ تردید شواہد مل گئے، عطا تارڑ کا بڑا انکشاف

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے بحریہ ٹاؤن کرپشن کیس میں ہولناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک ارب 12 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ "بھاگنے سے کچھ نہیں ہوگا، ملک ریاض کو چاہیے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کریں۔”

بھارتی معیشت پر امریکی ایٹمی وار: ٹرمپ کا 50 فیصد ٹیرف نافذ، بھارت پر معاشی بم گرا دیا

وفاقی وزیر کے مطابق ایف آئی اے کی حالیہ کارروائیوں کے دوران اسپتالوں کے اندر چھپایا گیا کیش اور حساس ریکارڈ قبضے میں لیا گیا، جبکہ کچھ شواہد ایمبولینسز کے ذریعے خفیہ طور پر منتقل کیے جا رہے تھے۔

عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے تفتیش کے دوران ایک منظم منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے جس میں عمران اور قیصر نامی افراد کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کے ذریعے بھاری رقوم غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کی جاتی رہیں۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اسپتال کے اندر پورا ایک خفیہ مالیاتی سیٹ اپ قائم تھا، اور ایف آئی اے کے چھاپے سے قبل بحریہ ٹاؤن کے بعض ملازمین نے اہم ریکارڈ کو جلانے کی کوشش کی، تاہم بڑی مقدار میں شواہد بروقت تحویل میں لے لیے گئے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ "اگر سب کچھ قانونی تھا تو ریکارڈ جلانے کی کوشش کیوں کی گئی؟”

عطاء تارڑ نے واضح کیا کہ یہ کارروائی صرف مخصوص افراد اور ان کے نیٹ ورکس کے خلاف ہے، بحریہ ٹاؤن کے عام رہائشیوں کو کوئی خطرہ نہیں، ان کے قانونی حقوق محفوظ ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ جاری ہے، چند مشتبہ افراد کی لوکیشنز کا سراغ لگا لیا گیا ہے، اور آئندہ دنوں میں بڑی گرفتاریاں متوقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے کاربند ہے اور کسی بااثر فرد کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

One thought on “بحریہ ٹاؤن کرپشن کیس: 1 ارب 12 کروڑ کی منی لانڈرنگ کے ناقابلِ تردید شواہد مل گئے، عطا تارڑ کا بڑا انکشاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!