اسلام آباد — اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ مکمل کر لیا۔ دورے کے دوران دونوں برادر اسلامی ممالک نے تجارت، توانائی، آئی ٹی، اور سرحدی تعاون سمیت کئی شعبوں میں اہم معاہدے کیے، جن سے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی ہے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کا اہم سنگ میل: کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ کے ذریعے شفاف بھرتی کا کامیاب آغاز
اسلام آباد آمد پر وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر کا پرتپاک استقبال کیا، اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات میں علاقائی و عالمی امور، اقتصادی روابط، اور سیکیورٹی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔
دورے کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط ہوئے، جن میں تجارت کے فروغ، توانائی کے تبادلے، سرحدی روابط کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت میں تعاون شامل ہیں۔
ایرانی صدر نے پاکستان کے قائدین سے ملاقاتوں میں دوستی، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کی فضا کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے پاک ایران سرحد کو امن، ترقی اور خوشحالی کی سرحد بنانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
دورے کے اختتام پر صدر پزشکیان کو نور خان ائر بیس پر وفاقی وزراء نے شایانِ شان انداز میں رخصت کیا۔
یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
