کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر کی ہدایت پر محکمہ زراعت نے شہید بینظیر آباد، سجاول، سانگھڑ اور گولاڑچی میں جعلی زرعی ادویات اور کھاد فروخت کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 5318 جعلی زرعی مصنوعات ضبط کر لیں۔
کراچی میں 4 اگست کو بجلی کی 9 گھنٹے کی بندش، پانی کی فراہمی 100 ملین گیلن کم ہونے کا خدشہ
ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق کارروائی کے دوران 59 مشکوک نمونے بھی حاصل کیے گئے جنہیں تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔
محکمے کی ٹیم نے غیر رجسٹرڈ ڈیلرز کی دکانوں پر چھاپے مارے اور جعلی، غیر معیاری زرعی ادویات و کھاد برآمد کیں۔
سجاول میں کارروائی کے دوران ایک غیر رجسٹرڈ ڈیلر سے 400 بیگ ہاپو گرینیول اور 68 بیگ ورٹاکو برآمد کیے گئے۔
گولاڑچی میں ایف ایم سی یونائیٹڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کی جعلی مصنوعات کے ہزاروں بیگ قبضے میں لیے گئے جبکہ 1000 بیگ فرٹیرا گرینیول بھی تحویل میں لیے گئے۔
سانگھڑ اور شہید بینظیر آباد میں کھاد اور کیڑے مار ادویات کے 40 سے زائد نمونے حاصل کرکے لیبارٹری بھیجے گئے۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ تمام جعلی زرعی مصنوعات دھان (چاول) کی فصل پر کیڑوں کے خاتمے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں، جو کہ کسانوں کے لیے خطرناک نقصان کا باعث بن سکتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ جعلی اور غیر معیاری زرعی اشیاء کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
