ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران سات مشکوک مسافروں کو آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا گیا۔
کراچی: معروف مارٹ کی 33 لاکھ کی ڈکیتی کا معمہ حل، سیکیورٹی انچارج ملوث، 14 لاکھ برآمد
حراست میں لیے گئے مسافروں میں عدنان ظہور، عثمان رفیق، آفتاب احمد، محمد اعزاز، عماد حسین، مبشر حسین اور احتشام الٰہی شامل ہیں۔ یہ تمام افراد آذربائیجان کے ویزے پر بیرون ملک روانہ ہو رہے تھے، تاہم امیگریشن کلئیرنس کے دوران ان کے کاغذات اور بیانات کو مشکوک پایا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ان افراد نے باکو سے آگے دبئی اور ملائیشیا کے راستے ترکی اور لیبیا جانا تھا، جہاں سے وہ سمندر کے ذریعے غیر قانونی طور پر اٹلی میں داخل ہونا چاہتے تھے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق، مسافر مختلف ایجنٹوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور ہر ایک نے 20 لاکھ سے 45 لاکھ روپے تک کی رقم یورپ پہنچنے کے عوض ادا کی تھی یا معاہدہ کیا تھا۔
تمام مسافروں کو فوری طور پر آف لوڈ کرکے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں مزید تفتیش جاری ہے۔
ایف آئی اے نے عندیہ دیا ہے کہ اس انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک میں ملوث ایجنٹوں کی گرفتاری کے لیے جلد مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔
