کراچی: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے 55 برس بعد ایف جی کینٹ پبلک اسکول کراچی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نہ صرف پودا لگایا اور لائبریری کے لیے کتب کا تحفہ دیا بلکہ ایک جذباتی خطاب میں اپنے تعلیمی سفر اور اساتذہ کے کردار کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔
گلشن حدید میں تالا توڑ گینگ کی بڑی واردات، پانچ دکانوں کا صفایا، سیکیورٹی گارڈ کو باندھ دیا گیا
احسن اقبال نے کہا کہ "یہ اسکول میری شخصیت سازی کی بنیاد ہے، میں اسے کبھی نہیں بھلا سکتا۔” انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے اندر اعتماد، تخلیقی سوچ اور قیادت کی صلاحیت ان کے اسی ادارے نے پیدا کی۔
انہوں نے خاص طور پر اپنی استانی میڈم وِیل اور سائنس کے استاد جمیل صاحب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "میڈم وِیل نے ہمیں حالاتِ حاضرہ سے جوڑ کر باشعور شہری بنایا، اور جمیل صاحب نے سائنسی شعور پیدا کیا۔”
وفاقی وزیر نے کہا کہ "اسکول صرف عمارت نہیں بلکہ شخصیت سازی کا مرکز ہوتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کو خواب دیکھنے کی صلاحیت دیتے ہیں، یہی اصل تعلیم ہے۔"
اپنی ذاتی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا: "میں کسی وڈیرے یا سرمایہ دار خاندان سے نہیں، تعلیم کی طاقت سے آج اس مقام تک پہنچا ہوں۔” انہوں نے تعلیم کو قوموں کی ترقی کا سب سے طاقتور ہتھیار قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ "اگر پسماندہ طبقے کو معیاری تعلیم دی جائے تو وہ پورے معاشرے کو اوپر لے جا سکتا ہے۔” مڈل کلاس کے طلبہ کو معاشرے کے بہترین ذہن قرار دیتے ہوئے انہوں نے ایف جی اسکول جیسے اداروں کو "پاکستان سے جُڑے مضبوط ذہن تیار کرنے والے” قرار دیا۔
احسن اقبال نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ریسرچ، تخلیقی سوچ اور جدید مہارتوں کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ "قرآن تدبر، مشاہدے اور سائنسی شعور پیدا کرنے کی دعوت دیتا ہے، جو اسلامی روایت ہے۔"
انہوں نے یہ بھی کہا کہ "2047 میں جب پاکستان 100 برس کا ہوگا تو ہمیں معیشت میں دنیا کا مقابلہ کرنا ہوگا۔” اور یاد دلایا کہ "ہم نے بنیان المرصوص کی طرح دشمن کو زناٹے دار جواب دے کر دنیا کو حیران کر دیا۔"
اختتام پر انہوں نے کہا کہ "محنت، والدین کی دعائیں اور اساتذہ کی عزت ہی کامیابی کی بنیاد ہیں۔ وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اسے ضائع نہ کریں۔"
