الجزیرہ عربی کے مطابق الشفا اسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک شیر خوار بچہ محمد ابراہیم عدس شدید غذائی قلت اور دودھ کے متبادل کی عدم دستیابی کے باعث جاں بحق ہوگیا ہے۔ یہ سانحہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب غزہ میں غذائی قلت کی صورتحال بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
گورنر کے پی کا پی ٹی آئی پر شدید وار جب وزیراعلیٰ بھتہ دے تو صوبے کا اللہ ہی حافظ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق غزہ سٹی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں بچوں میں غذائی قلت کی شرح سب سے زیادہ ہے، اور وہاں پانچ سال سے کم عمر کے ہر پانچ میں سے ایک بچہ اس خطرناک کیفیت میں مبتلا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غذائی قلت اور بھوک کے باعث کم از کم 14 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اس طرح اسرائیلی محاصرے کے باعث شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 147 ہو گئی ہے، جن میں 88 معصوم بچے شامل ہیں۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ بچوں کے لیے دودھ کے متبادل کی شدید قلت کے باعث 40 ہزار سے زائد شیرخوار بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کا کہنا ہے کہ یہ شیرخوار بچے اس ظالمانہ ناکہ بندی کے نتیجے میں سست موت کے دہانے پر ہیں، کیونکہ اسرائیل گزشتہ 150 دنوں سے بچوں کے دودھ کی متبادل خوراک کی ترسیل کو روک رہا ہے۔
دفتر نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ تمام گزرگاہوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھولا جائے تاکہ بچوں کا دودھ اور دیگر انسانی امداد فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچائی جا سکے۔
دوسری جانب، الجزیرہ کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، آج صبح سے اسرائیلی حملوں میں 41 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 8 عام شہری شامل تھے جو انسانی امداد کے انتظار میں کھڑے تھے اور جان بوجھ کر نشانہ بنائے گئے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی غزہ میں غذائی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کی شدید مذمت کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھوک عدم استحکام کو جنم دیتی ہے اور امن کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ادھر اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کے جزوی وقفے کے دوران اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے غزہ میں 120 سے زائد امدادی ٹرک تقسیم کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے یروشلم میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ "غزہ میں بھوک سے مارنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے اور وہاں قحط نہیں ہے۔” تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں سے متصادم نظر آتے ہیں۔
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے بتایا ہے کہ روزانہ کم از کم 600 امدادی ٹرکوں اور ماہانہ 2,50,000 ڈبوں پر مشتمل بچوں کے دودھ کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ بھوکی اور محصور آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ دفتر نے ایک بار پھر اس بحران کے فوری حل کے طور پر اسرائیلی ناکہ بندی کے خاتمے اور تمام سرحدی گزرگاہوں کے بغیر کسی شرط کے کھولے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
