نیا دور میڈیا کی جانب سے منعقدہ ایک اہم ورکشاپ میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران، کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی اور شہریوں پر بڑھتے مالی بوجھ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ورکشاپ میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید نقی، ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی طحہ احمد خان، سینئر صحافی و ماحولیاتی ماہر عافیہ سلام اور نیا دور میڈیا کے ایڈیٹر رضا رومی نے شرکت کی۔
نارتھ ناظم آباد میں پولیس اور ملزمان کے درمیان مقابلہ ایک زخمی حالت میں گرفتار اسلحہ و موٹر سائیکل برآمد
ورکشاپ میں شریک ماہرین اور نمائندوں نے اتفاق کیا کہ کراچی میں توانائی، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید قلت ہے، جبکہ کے الیکٹرک کی اووربلنگ اور لوڈشیڈنگ شہریوں کے لیے مستقل عذاب بن چکی ہے۔
جنید نقی نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت بجلی کی کھپت تقریباً 30 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (IPPs) کو اربوں روپے کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ "صنعتکاروں کو بلاجواز ٹیکس چور کہا جا رہا ہے، حالانکہ اصل بحران حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا نتیجہ ہے،” انہوں نے کہا۔ انہوں نے تجویز دی کہ مارکیٹیں جلدی کھولنے سے توانائی کی بچت ممکن ہے۔
طحہ احمد خان نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "کے الیکٹرک کی اجارہ داری نے کراچی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ بجلی کی ترسیل میں متبادل کمپنیوں کو شامل کیا جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف ملے۔”
عافیہ سلام نے توجہ دلائی کہ توانائی کا بحران صرف معیشت یا گورننس کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ "کلائمٹ چینج کے تناظر میں نئی توانائی پالیسی بنانا ہوگی تاکہ پائیدار حل ممکن ہو،” انہوں نے زور دیا۔
نیا دور میڈیا کے ایڈیٹر رضا رومی نے کہا کہ یہ ورکشاپ شہریوں کو سستی بجلی کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔ "ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے ذریعے بلوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، جس سے متوسط اور نچلے طبقے کی زندگی مزید پریشان کن ہو گئی ہے،” انہوں نے کہا۔
ورکشاپ کے آخر میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ بھی اس نوعیت کے ڈائیلاگ اور عوامی نشستیں جاری رکھی جائیں تاکہ حکومت، ادارے اور عوام مل کر حل تلاش کر سکیں۔
