کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و تعمیرات عامہ سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ لیاری میں گرنے والی عمارت کے واقعے پر فوری اور سخت ایکشن لیا گیا ہے، اور اب تک 59 مخدوش عمارتوں کو خالی کروایا جا چکا ہے۔
نمبر پلیٹ کے سوال پر ایف بی آر افسر آپے سے باہر، میڈیا ٹیم پر بدسلوکی، مقدمہ تاحال درج نہ ہو سکا
انہوں نے واضح کیا کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بھرپور مہم جاری ہے، اور متعدد خطرناک عمارتیں پہلے ہی مسمار کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ کرایہ داروں کو سندھ حکومت کی جانب سے چھ ماہ کا کرایہ فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی مشکلات کم ہو سکیں۔
شرجیل میمن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد جاری غیرقانونی تعمیرات کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں کیونکہ
"غیرقانونی عمارتیں قیمتی انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں، اور ایسی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔”
انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی بریفنگ دی اور بتایا کہ شاہراہِ بھٹو پر کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ جام صادق پل اگست تک مکمل کر کے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
کے-فور منصوبے پر وزیر اعلیٰ سندھ مسلسل میٹنگز کر رہے ہیں، اور یہ منصوبہ جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
سیاسی معاملات پر تبصرہ کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا:
"کسی بھی سیاسی رہنما کو سزا ملنے پر خوشی نہیں، لیکن اگر وہ جلاؤ گھیراؤ جیسے جرائم میں ملوث ہو تو اس کی معافی ممکن نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ
"قومی املاک کو آگ لگانا سیاست نہیں، دہشت گردی ہے۔ جلاؤ گھیراؤ کا ماسٹر مائنڈ اس وقت اڈیالہ جیل میں بند ہے، اور انتشار کی سیاست کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔”
