کراچی: وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت سی پی ایل سی (CPLC) ایکزیکٹیو کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے سے متعلق پانچ نکاتی ایجنڈے پر اہم امور پر گفتگو کی گئی اور ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
مکلی بائی پاس پر منشیات سے بھری گاڑی فرار، پولیس موبائل کو ٹکر، دو اہلکار زخمی
اجلاس کے دوران قواعد و ضوابط کے تحت خالی آسامی پر پرائیویٹ رکن کے طور پر ثاقب شیرازی کی تقرری کی منظوری دی گئی، جبکہ مشاورت کے بعد چیف سی پی ایل سی زبیر حبیب کو ان کی موجودہ پوزیشن پر برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیر داخلہ نے سلیکشن بورڈ کے قیام کا اعلان کیا اور عادل چھپرا کو سلیکشن بورڈ کا ڈپٹی چیف ایڈمن مقرر کیا گیا۔ ساتھ ہی فائنانس کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا، جس میں شبر ملک کو ڈپٹی چیف سی پی ایل سی آپریشنز نامزد کیا گیا۔
اسی طرح علی حاجی کو ڈپٹی چیف سی پی ایل سی آئی ٹی کے طور پر مقرر کیا گیا۔
ضیاء الحسن لنجار نے مالی سال 2025-2026 کے دوران ادارے کی امداد میں اضافے سے متعلق سفارشات تیار کرنے کے احکامات بھی دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
“سی پی ایل سی سندھ، پاکستان کا واحد مثالی ادارہ ہے، میں چاہتا ہوں کہ اسے پورے صوبے کے تمام شہروں تک وسعت دی جائے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، اور یہ ادارہ مستقبل میں اپنی محنت اور کارکردگی سے مزید مقام حاصل کرے گا۔
اجلاس کے آغاز میں سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب نے ادارے کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔
