نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کردی

اسلام آباد: نور مقدم قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر ذاکر جعفر نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے میں کئی قانونی و شواہداتی پہلو نظرانداز کیے گئے ہیں۔

ٹیکس نظام کی بہتری سے عام آدمی پر بوجھ کم ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف

ظاہر جعفر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ماتحت عدالت نے اس کی ذہنی حالت کا تعین کرانے کی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی، اور سپریم کورٹ نے بھی میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے دائر متفرق درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کے دوران ویڈیو ریکارڈنگز کو بنیاد بنا کر سزا سنائی گئی، مگر ان ویڈیوز کو عدالت میں چلایا ہی نہیں گیا اور نہ ہی ان کی قانونی حیثیت کو باقاعدہ ثابت کیا گیا۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ ویڈیو شواہد کی نقول ملزم کو فراہم نہیں کی گئیں، جو اس کے دفاع کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے نظرثانی کی متفرق وجوہات پر غور نہیں کیا، حالانکہ فیصلہ متاثر کرنے والے کئی اہم قانونی نکات موجود ہیں۔

ظاہر ذاکر جعفر نے عدالتِ عظمیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور انصاف کے تقاضے پورے کرے۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کردی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!