اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 242 ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 21 افراد جاں کی بازی ہار گئے، جب کہ 6 افراد زخمی ہوئے۔
آئرلینڈ سیریز کے لیے پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کا اعلان، فاطمہ ثنا کپتان مقرر
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 26 جون سے 22 جولائی تک مجموعی طور پر 242 افراد جاں بحق اور 598 افراد زخمی ہوئے۔ بارشوں اور سیلابی صورتحال سے 209 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 645 کو جزوی نقصان پہنچا۔
ملک بھر میں 208 مویشی ہلاک ہوئے، 12 پل متاثر اور 10.5 کلومیٹر سڑکیں زیرِ آب آ گئیں۔ این ڈی ایم اے نے 25 جولائی تک بارشوں کے مزید سلسلے اور خطرات کے پیشِ نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی علاقہ جات میں لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے نتیجے میں سیلابی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ حساس مقامات میں ریشون، بریپ، بونی، سردار گول، ٹھلو ون و ٹو، ہنارچی، ہندور، درکوٹ، بدسوات، اشکومن اور ارکاری شامل ہیں۔
دریاؤں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ دریا جہلم کے بالائی علاقوں میں منگلا کے مقام پر، جبکہ کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اسی طرح دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو بیراج پر بھی پانی کے بہاؤ میں تیزی آنے کا خدشہ ہے۔ خیبرپختونخوا میں دریائے سوات اور پنجکوڑہ سمیت ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
گلگت بلتستان میں دریائے ہنزہ، شگر، ہسپر، خنجراب، شمشال، برالدو، ہوشے اور سالتورو میں بھی اچانک سیلابی ریلے آ سکتے ہیں۔ بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، شیرانی، ژوب اور سبی میں بھی مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہِ قراقرم اور بابوسر ٹاپ مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 25 جولائی تک پہاڑی علاقوں کے سفر سے گریز کریں اور سڑکوں کی صورتحال کے بارے میں مصدقہ ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
مزید کہا گیا ہے کہ تیز بہاؤ والے ندی نالوں، پلوں اور زیرِ آب سڑکوں سے ہر صورت میں گریز کیا جائے۔ عوام سے درخواست ہے کہ موسمی خطرات اور تازہ ترین معلومات کے لیے "پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ” سے رہنمائی حاصل کریں۔
